قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے صرف ایک ہفتے کے دوران شہریوں کی زندگیوں کے لیے انتہائی بے اعتنائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لبنان میں ایک درجن بچوں سمیت پورے پورے خاندانوں کو نشانہ بنایا۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ریجنل ڈائریکٹر کرسٹین بیکرل نے کہا کہ عالمی برادری فوری طور پر اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی پر مکمل پابندی عائد کرے اور ذمہ دار افراد کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اپنے اختیارات استعمال کرے۔
📍New @amnesty investigation | Within the space of just a week in March 2026 – three Israeli strikes obliterated entire families, including a dozen children, in southern Lebanon. They must be investigated as war crimes.https://t.co/wWK4JQrHJn
— amnestypress (@amnestypress) July 9, 2026
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی، جس میں شہریوں اور فوجی اہداف کے درمیان فرق نہ کرنا، شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا، اور عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا شامل ہے۔






