بین الاقوامی خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق ڈیٹا کمپنی کپلر کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اگر ناکہ بندی برقرار رہی تو ایران آئندہ 12 سے 22 دنوں میں اپنی خام تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے محروم ہو سکتا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ جزیرہ خارگ، جہاں سے ایران کی زیادہ تر تیل برآمدات ہوتی ہیں، وہاں ذخیرہ چند دنوں میں مکمل طور پر بھر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج کو عالمی سمندروں سے ملانے والا اہم راستہ ہے، جہاں سے عام حالات میں دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی سپلائی گزرتی ہے۔
ایران نے جنگ کے آغاز کے بعد اس گزرگاہ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
بعد ازاں کچھ مخصوص جہازوں کو محدود اجازت دی گئی، تاہم اب ایران نے غیر ملکی پرچم بردار جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب تک امریکا اپنی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی تیل برآمدات محدود کی جائیں تو دیگر ممالک کے لیے بھی اس راستے کی سکیورٹی مفت نہیں ہو سکتی۔
اعداد و شمار کے مطابق ایران کی یومیہ ریفائننگ صلاحیت 2.6 ملین بیرل ہے، جب کہ ناکہ بندی کے بعد تیل کی بڑی مقدار برآمد ہونے کے بجائے ذخیرہ کی جا رہی ہے۔
سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 13 سے 21 اپریل کے دوران ایران کے تیل کے ذخائر میں 60 لاکھ بیرل سے زائد اضافہ ہوا۔ جزیرہ خارگ کے ذخائر 74 فیصد تک بھر چکے ہیں، جب کہ عمومی طور پر 80 فیصد سے زیادہ ذخیرہ کرنا خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس سمندر میں کھڑے ٹینکرز کی صورت میں بھی تقریباً 127 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، تاہم یہ بھی محدود مدت تک ہی کارآمد ہو سکتی ہے۔
کیا ایران پیداوار کم کرے گا؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ فوری طور پر پیداوار میں بڑی کمی کا امکان کم ہے، کیونکہ ایران کے پاس تقریباً 20 دن کی اضافی ذخیرہ گنجائش موجود ہے۔ تاہم اگر ناکہ بندی جاری رہی تو مئی کے مہینے میں پیداوار میں بتدریج کمی شروع ہو سکتی ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران خود بھی حکمت عملی کے تحت پیداوار کم کر سکتا ہے تاکہ مستقبل میں تیل نکالنے کا عمل آسان رہے۔
As @POTUS has made clear, the United States Navy will continue the blockade of Iranian ports. In a matter of days, Kharg Island storage will be full and the fragile Iranian oil wells will be shut in. Constraining Iran’s maritime trade directly targets the regime’s primary…
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) April 21, 2026
پیداوار میں کمی کیوں اہم ہے؟
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ تیل کی پیداوار روکنے سے زیر زمین ذخائر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جس سے بعد میں تیل نکالنا مشکل اور مہنگا ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ پیداوار دوبارہ شروع کرنا بھی وقت طلب اور مہنگا عمل ہوتا ہے، جس میں پائپ لائنز اور دیگر تنصیبات کی مرمت درکار ہوتی ہے۔
برآمدات اور آمدن پر اثرات
پیداوار میں کمی سے ایران کی تیل برآمدات اور آمدن متاثر ہو سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایران کے پاس اس وقت دنیا بھر میں جہازوں پر 160 سے 170 ملین بیرل تیل موجود ہے، جس سے وہ کچھ عرصے تک آمدن حاصل کر سکتا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی منڈی کو بھی شدید جھٹکا لگ سکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑیں گے۔






