یہ سوال اب صرف دفاعی تجزیہ کاروں کی بحث تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی ممالک کی فوجی حکمتِ عملی کا حصہ بن چکا ہے۔ انہی ممالک میں جنوبی کوریا بھی شامل ہے، جس نے بدلتے ہوئے جنگی رجحانات کے پیش نظر اپنے دفاعی نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا آغاز کر دیا ہے۔

کئی دہائیوں تک کسی بھی ملک کی عسکری طاقت کا اندازہ اس کے ٹینکوں، جنگی جہازوں، لڑاکا طیاروں اور فوجیوں کی تعداد سے لگایا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں مختلف جنگوں نے یہ تصور بدل دیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں ہونے والی جنگوں نے ثابت کیا کہ نسبتاً کم لاگت والے فرسٹ پرسن ویو (FPV) اور کامیکازی ڈرونز مہنگے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور فضائی دفاعی نظاموں کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے ڈرونز کو جدید جنگ کا ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کو خطرہ کیوں محسوس ہو رہا ہے؟

جنوبی کوریا کا دارالحکومت سیول شمالی کوریا کی سرحد سے زیادہ فاصلے پر نہیں، اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کئی دہائیوں سے برقرار ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں شمالی کوریا نے نہ صرف اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو وسعت دی بلکہ ڈرون ٹیکنالوجی پر بھی کام تیز کیا ہے۔

یہ خدشات دسمبر 2022 میں اس وقت حقیقت بن گئے جب شمالی کوریا کے متعدد ڈرون جنوبی کوریا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔ اس واقعے نے جنوبی کوریا کے فضائی دفاعی نظام پر سوالات کھڑے کیے اور حکومت کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے واضح کر دیا کہ مستقبل کے خطرات صرف میزائلوں یا روایتی فضائی حملوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

پانچ لاکھ فوجیوں کو نئی تربیت

جنوبی کوریا نے اسی تناظر میں اپنے تقریباً پانچ لاکھ فوجیوں کو ڈرون اور کاؤنٹر ڈرون آپریشنز کی تربیت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ ہر فوجی روایتی ہتھیار چلانے کے ساتھ ساتھ نگرانی، حملے اور دفاع کے لیے جدید ڈرون سسٹمز استعمال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کرے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ مستقبل کی جنگ میں صرف جدید ہتھیار کافی نہیں ہوں گے بلکہ انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کرنے والی تربیت یافتہ افرادی قوت بھی اتنی ہی اہم ہوگی۔

2029 تک 60 ہزار ڈرونز

تربیت کے ساتھ ساتھ جنوبی کوریا مقامی سطح پر ڈرون سازی کی صلاحیت بھی تیزی سے بڑھا رہا ہے۔

سرکاری منصوبے کے مطابق 2029 تک بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے لیے تقریباً 60 ہزار مقامی ڈرون تیار کیے جائیں گے، جن میں سے 11 ہزار ابتدائی مرحلے میں ہی آپریشنل ہوں گے۔

اس منصوبے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز میں چینی ساختہ پرزوں کے استعمال سے گریز کیا جا رہا ہے تاکہ سائبر حملوں، حساس معلومات کے اخراج اور سپلائی چین سے وابستہ سکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ جنوبی کوریا لیزر پر مبنی جدید کاؤنٹر ڈرون سسٹمز بھی اپنی سرحدی دفاعی حکمتِ عملی میں شامل کر رہا ہے، جن کا مقصد دشمن کے ڈرونز کو روایتی میزائلوں کے مقابلے میں کم لاگت پر تباہ کرنا ہے۔

صرف جنوبی کوریا ہی نہیں

ڈرون ٹیکنالوجی کی دوڑ صرف جنوبی کوریا تک محدود نہیں۔

امریکہ، چین، روس، ترکی اور یورپی ممالک بھی اربوں ڈالر ڈرونز، مصنوعی ذہانت، خودکار جنگی نظام اور بغیر پائلٹ کے چلنے والے فوجی پلیٹ فارمز کی تیاری پر خرچ کر رہے ہیں۔

دفاعی ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں کامیابی اب صرف اس ملک کو نہیں ملے گی جس کے پاس سب سے زیادہ فوج یا سب سے زیادہ ٹینک ہوں، بلکہ برتری اس کے پاس ہوگی جو دشمن کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کر سکے، تیزی سے فیصلہ کرے اور کم لاگت میں زیادہ مؤثر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اسی لیے کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرونز محض ایک معاون ہتھیار نہیں بلکہ میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی کا مرکزی ستون بن سکتے ہیں، اور جنوبی کوریا کی نئی دفاعی پالیسی اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔