پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ دفاع نے کہا کہ یہ آپریشن کسی لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد ایران کے میزائل اور سکیورٹی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ ان کے بقول ایران جیسے رجیم کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
پیٹ ہیگستھ نے کہاکہ ہم نے جنگ شروع نہیں کی، لیکن صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ تاریخ کا سب سے مہلک، سب سے پیچیدہ اور سب سے درست فضائی آپریشن ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ملک چار مسلح افواج کے اہلکاروں کی ہلاکت پر سوگوار ہے۔ انہوں نے ان فوجیوں کو امریکا کے بہترین سپاہی قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہم اس آپریشن کو اس انداز میں مکمل کریں گے جو ان کی قربانی کا احترام کرے نہ کوئی معذرت، نہ کوئی ہچکچاہٹ، بلکہ بھرپور جوابی کارروائی۔
پیٹ ہیگستھ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 47 برس کے ایرانی طرزِ عمل کے بعد لکیر کھینچ دی ہے اور واضح کر دیا ہے کہ جو بھی امریکیوں کو قتل کرے گا یا دھمکائے گا، اسے بغیر معذرت اور بغیر ہچکچاہٹ نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے براہِ راست فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ وہ موڑ ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔
ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکا نے اس جنگ کی شرائط ابتدا سے انتہا تک خود طے کی ہیں اور امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام اس غیر معمولی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے ایرانی سکیورٹی فورسز پر زور دیا کہ وہ سمجھداری سے انتخاب کریں اور کہا کہ ہم جیتنے کے لیے لڑتے ہیں اور وقت یا جانیں ضائع نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ میں لبنان بھی شامل، حزب اللہ کے حملوں کے بعد خطہ مزید تصادم کی لپیٹ میں
پیٹ ہیگستھ نے الزام عائد کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کو اپنے جوہری عزائم دوبارہ شروع کرنے کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ انہوں نے گزشتہ برس کے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کارروائی میں امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
ان کے مطابق تہران امن اور معقول معاہدے پر آمادہ نہیں تھا بلکہ میزائل ذخائر کی بحالی اور جوہری پروگرام دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
یاد رہے کہ دو روز قبل ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے نتیجے میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے متعدد اہم عہدیداروں سمیت سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ان حملوں میں شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ان حملوں کے بعد ایران نے اپنے دفاع میں خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات اور مفادات کے علاوہ اسرائیل کو بھی نشانہ بناتے ہوئے جوابی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔





