پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے ایک ابتدائی مفاہمتی ڈھانچے پر اتفاق کیا، جس کے تحت فوجی کارروائیاں روکنے، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور بعد ازاں 60 روزہ مذاکرات کے ذریعے جوہری اور پابندیوں سے متعلق معاملات طے کرنے کی بات کی گئی۔
اس پیش رفت کے ساتھ لبنان کو بھی اس فریم ورک کا لازمی حصہ بنایا گیا، حالانکہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے معاہدے کی کتنی بار خلاف ورزی کی؟
اس سوال کا جواب ایک ہی عدد میں دینا آسان نہیں، کیونکہ اس معاملے میں ایک نہیں بلکہ کئی سطحوں پر جنگ بندی اور اس کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ موجود ہے۔
اگر لبنان کے دفاعی وزیر کی گنتی لی جائے تو 17 اپریل سے 7 جون کے درمیان اسرائیل نے تقریباً 3,491 فضائی حملے، 407 کنٹرولڈ ڈیمولیشنز اور چھ "razing" کارروائیاں کیں، یعنی مجموعی طور پر 3,900 سے زائد تباہ کن کارروائیاں اور اگر 15 جون کے بعد کی رپورٹس شامل کی جائیں تو اسرائیلی حملوں کا سلسلہ اس کے بعد بھی رکا نہیں۔
معاہدہ کیسے بنا، کس نے کرایا اور اس میں کیا شامل تھا؟
اس تازہ سفارتی ڈھانچے تک پہنچنے کا سفر اچانک نہیں تھا۔ 14 جون کو امریکا اور پاکستان نے کہا تھا کہ ابتدائی ڈیل اتوار کو دستخط کے لیے تیار ہو سکتی ہے، جب کہ بعد میں یہ عندیہ بھی آیا کہ حتمی دستخط سوئٹزرلینڈ میں ہونے ہیں۔
پاکستان اس پورے عمل میں کلیدی ثالث رہا اور قطر کے مذاکرات کار بھی تہران گئے تاکہ آخری مرحلے کو مکمل کیا جا سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ قریب ہے، جب کہ ایرانی فریق نے ابتدا میں ٹائمنگ پر شک ظاہر کیا مگر ڈرافٹ پر بات جاری رکھی۔
مسودے کے اہم نکات میں آبنائے ہرمز کو تجارتی آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا، امریکی بحری ناکہ بندی مرحلہ وار ختم کرنا، ایران کی تیل برآمدات پر کچھ پابندیوں میں نرمی اور 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے ذریعے جوہری پروگرام کا تفصیلی جائزہ لینا شامل تھا۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اس مدت میں یورینیم افزودگی نہ بڑھانے، جوہری ڈھانچہ موجودہ سطح پر رکھنے اور فائنل ڈیل تک جوہری ہتھیار نہ بنانے پر آمادہ تھا، جب کہ امریکا کی طرف سے منجمد اثاثوں کی رہائی اور پابندیوں میں نرمی زیرِ غور رہی۔
امریکی حکام نے زور دیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے کا مرکزی مقصد یہ ہوگا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
لبنان کیوں ڈیل کا مرکزی نکتہ بن گیا؟
یہ معاہدہ محض واشنگٹن اور تہران کے درمیان نہیں، بلکہ لبنان کے مستقبل سے بھی جڑا ہوا ہے۔ رائٹرز کے مطابق پاکستان نے اعلان کیا کہ معاہدہ تمام محاذوں بشمول لبنان پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے کی بات کرتا ہے۔
ایران نے بھی ابتدا ہی سے اصرار کیا تھا کہ لبنان کو کسی بڑے سمجھوتے سے الگ نہیں رکھا جا سکتا، جب کہ حزب اللہ نے واضح کیا تھا کہ لبنان میں اسرائیلی موجودگی اور حملے اس ڈیل کی ساکھ کو متاثر کریں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اس معاہدے کا فریق نہیں۔ اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے مجوزہ معاہدے میں شامل نہیں اور تل ابیب نے لبنان میں اپنے فوجی اختیار کو برقرار رکھنے کی بات بھی کی ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جس نے اس پورے عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے، ایک طرف واشنگٹن اور تہران کی مفاہمت، دوسری طرف اسرائیل کی زمینی کارروائیاں اور تیسری طرف لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مسلسل جھڑپیں۔
جنگ بندی کی تاریخ: کب کیا ہوا؟
اس بحران کی جڑیں مارچ 2026 تک جاتی ہیں، جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر راکٹ فائر کیے اور اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کر دیں۔
2 مارچ کے بعد لبنان میں لڑائی سب سے خونریز علاقائی spillover بن گئی اور جنگ کے دوران ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
اس کے بعد 16 اپریل کے قریب ایک امریکی سرپرستی میں جنگ بندی کا اعلان ہوا جو 17 اپریل کی آدھی رات سے نافذ ہوئی، لیکن اس نے جنوبی لبنان میں لڑائی بند نہیں کی۔
پھر 3 جون کو واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان نے ایک علیحدہ سیز فائر نافذ کرنے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد خطے میں بڑھی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا تھا، مگر یہ بھی مکمل امن نہیں تھا۔
لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے فوری طور پر راکٹ داغ کر اس معاہدے کو آزمایا اور اسرائیل نے جنوبی لبنان اور بیروت کے مضافات میں حملے جاری رکھے۔
اسی پس منظر میں 14 اور 15 جون کو امریکا-ایران فریم ورک سامنے آیا، جسے پاکستان نے ثالثی کے ذریعے آگے بڑھایا اور جس میں لبنان کو شامل کیا گیا۔
اسرائیل نے کہاں کہاں معاہدہ توڑا؟
اگر سخت اور ذمہ دارانہ جواب دیا جائے تو سب سے بڑا شمار لبنان کی اپنی سرکاری گنتی ہے۔ لبنان کے دفاعی وزیر نے 8 جون کو کہا تھا کہ 17 اپریل سے 7 جون تک اسرائیل نے 3,491 فضائی حملے کیے، 407 کنٹرولڈ ڈیمولیشنز کیں اور 6 "razing" کارروائیاں کیں۔
یہ تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی کارروائیاں رکی نہیں تھیں، بلکہ جنوبی لبنان میں کئی دیہات عملاً ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
پھر 14 جون کو خود امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ بیروت کے جنوبی علاقے پر اسرائیلی حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان ڈیل قریب تھی۔
رائٹرز نے اسی خبر میں بتایا کہ اسرائیل نے داحیہ میں حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بنایا اور تین افراد مارے گئے۔ یہ حملہ اس لیے بھی اہم تھا کہ یہ ڈیل کے حتمی ہونے سے عین پہلے ہوا اور اس نے سفارتی پیش رفت پر دباؤ بڑھا دیا۔
15 جون کو، جب پاکستان نے امریکا-ایران معاہدے کی خبر دی اور "تمام محاذوں، بشمول لبنان،" پر مستقل جنگ بندی کی بات کی، اسی دن اسرائیلی ڈرون حملے میں جنوبی لبنان کے شہر کفر تبنیت میں ایک شخص مارا گیا، جب کہ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی فوجی گاڑیوں پر ڈرون اور راکٹ داغے۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں کہا کہ اس نے جنوبی لبنان میں تعینات اپنی فورسز پر داغے گئے راکٹ روکے۔ اس سے واضح ہے کہ ڈیل کے اعلان کے بعد بھی زمینی لڑائی ختم نہیں ہوئی۔
16 جون کو جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں کم از کم چار افراد مارے گئے۔ ان حملوں نے یہ ثابت کر دیا کہ امن دستاویز اور زمینی حقیقت کے درمیان اب بھی بڑا فاصلہ موجود ہے۔
کیا یہ خلاف ورزیاں ایک ہی خانے میں ڈالی جا سکتی ہیں؟
یہاں احتیاط ضروری ہے۔ اسرائیل اپنی ہر کارروائی کو حزب اللہ کے خطرے کے جواب کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اسرائیل نے کہا کہ اس نے داحیہ میں حزب اللہ اہداف کو نشانہ بنایا اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔
اسی طرح 15 جون کے بعد بھی اسرائیل نے یہ مؤقف برقرار رکھا کہ اس کے فوجی جنوبی لبنان میں رہیں گے اور اسے فریڈم آف ایکشن حاصل ہو گی۔
یعنی تل ابیب کے نزدیک یہ خلاف ورزی نہیں بلکہ دفاعی جواب ہے، جب کہ لبنان اور ایران اسے معاہدے کی پامالی سمجھتے ہیں۔
اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ تاحال کوئی ایک مشترکہ، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ خلاف ورزیوں کی حتمی گنتی ابھی موجود نہیں، مگر لبنان کی سرکاری رپورٹنگ اور عالمی خبررساں اداروں کی مسلسل فیلڈ رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ اسرائیلی حملے 17 اپریل کے بعد بھی جاری رہے اور 14، 15 اور 16 جون کو بھی نئے حملے سامنے آئے۔
🚨 BREAKING:
— ᴛʀᴀᴄᴇʀ (@DeFiTracer) June 16, 2026
🇺🇸🇮🇷 US HAS DENIED ISRAEL ACCESS TO THE MEMORANDUM OF UNDERSTANDING
ISRAELI OFFICIALS SOUGHT TO REVIEW THE AGREEMENT AFTER IT WAS SIGNED
SOURCES REPORT THAT WASHINGTON HAS DENIED THIS REQUEST
LOOKS LIKE TRUMP IS ANGRY WITH NETANYAHU... pic.twitter.com/dKHkVqbIWs
موجودہ صورتحال کیا ہے؟
موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ ایک طرف امریکا-ایران ابتدائی مفاہمت کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسری طرف اسرائیل لبنان میں اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھنے پر مصر ہے اور تیسری طرف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی کسی بھی مزید جارحیت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اس کی فوجیں جنوبی لبنان میں جتنی ضرورت ہو اتنی دیر رہیں گی، جب کہ حزب اللہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گی۔
لبنان کے اندر بھی حالات نازک ہیں۔ 15 جون کو لڑائی کچھ کم ضرور ہوئی، لیکن مکمل بند نہیں ہوئی۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہیں، جنوبی دیہات تباہ ہو چکے ہیں اور متعدد مقامات پر لوگ ابھی بھی واپس جانے سے ڈر رہے ہیں۔
بیروت کے جنوبی علاقے، خاص طور پر داحیہ، ایک بار پھر اس خوف کی علامت بن گئے ہیں کہ کہیں یہ وقفہ ایک نئے دور کی جنگ نہ ثابت ہو۔
آگے کیا ہونے جا رہا ہے؟
اب اصل آزمائش اگلے 60 دن ہیں۔ یہی وہ مدت ہے جس میں جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی، منجمد اثاثوں کی بحالی، آبنائے ہرمز کی کھلائی اور لبنان میں سکیورٹی انتظامات پر مزید مذاکرات ہوں گے۔
اگر یہ مرحلہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ پورے خطے میں ایک نئی سیاسی ترتیب لا سکتا ہے۔ اگر ناکام ہوتا ہے تو یہ ڈرافٹ ایک اور بڑے بحران کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے خود کہا ہے کہ اگر ایران فائنل جوہری معاہدے تک نہ پہنچا تو امریکا دوبارہ کارروائی کر سکتا ہے، جب کہ یورپی طاقتیں بھی یہ کہہ چکی ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔
اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی جڑی ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی تیل منڈیوں کے لیے فوری راحت ہے، اس لیے دنیا اس معاہدے کو صرف سفارتی نہیں بلکہ توانائی کے معاہدے کے طور پر بھی دیکھ رہی ہے۔
جنگ رکی ہے یا صرف شکل بدل گئی ہے؟
اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد ایک بار نہیں بلکہ کئی بار معاہدے کی روح کو چیلنج کیا ہے۔ اس لیے آج کی حقیقت یہ ہے کہ کاغذ پر جنگ بندی موجود ہے، سفارت کاری بھی چل رہی ہے، مگر میدان اب بھی خاموش نہیں۔
لبنان اس معاہدے کا سب سے کمزور کڑا ہے، داحیہ اس کشیدگی کی سب سے نمایاں علامت اور آنے والے 60 دن فیصلہ کریں گے کہ یہ فریم ورک مستقل امن کی طرف جاتا ہے یا ایک اور بڑے تصادم کی طرف۔





