خبر ایجنسی سے بذریعہ ای میل  کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ وہ اپنے مستقبل کے ممکنہ نتائج سے آگاہ ہیں، تاہم وہ اپنے ملک واپس جانا چاہتی ہیں کیونکہ ان کے مطابق عوام انہیں دوبارہ پکار رہے ہیں۔

سابق بنگلادیشی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وطن واپسی کی صورت میں انہیں قتل کیے جانے کا خطرہ ہے یا انہیں گرفتار کرکے جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے، لیکن وہ ان خدشات کے باوجود واپسی کے فیصلے پر قائم ہیں۔

شیخ حسینہ نے کہا کہ وہ اپنے انجام سے بخوبی واقف ہیں، مگر ملک اور عوام کے ساتھ ان کا تعلق انہیں واپس جانے پر آمادہ کر رہا ہے،  وہ بنگلادیش کی موجودہ صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

 

واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس بنگلادیش میں ہونے والے شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہروں کے بعد اقتدار چھوڑ کر ملک سے روانہ ہوگئی تھیں اور بعد ازاں بھارت منتقل ہوگئیں۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلادیش میں سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔

بنگلادیش کی عدالت میں شیخ حسینہ واجد کے خلاف مختلف مقدمات بھی زیرِ سماعت رہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق انہیں ایک مقدمے میں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ سابق وزیراعظم نے ان الزامات اور عدالتی کارروائیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔

یاد رہے کہ  شیخ حسینہ کی ممکنہ وطن واپسی بنگلادیش کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے، کیونکہ ان کی واپسی سے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے یا نئے سیاسی مذاکرات کا آغاز ہونے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: انڈیا کے نئے وزیرِ تعلیم پرہلاد جوشی کون ہیں؟

شیخ حسینہ واجد بنگلادیش کی طویل عرصے تک وزیراعظم رہنے والی اہم سیاسی شخصیات میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کی عوامی لیگ پارٹی ملک کی سیاست میں ایک نمایاں کردار رکھتی ہے، تاہم حالیہ سیاسی بحران کے بعد پارٹی اور اس کی قیادت کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔

دوسری جانب بنگلادیشی حکام کی جانب سے شیخ حسینہ کی واپسی، مقدمات اور مستقبل کے سیاسی کردار سے متعلق مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔