برطانوی خبر ایجنسی کو ٹیلی فون پر دیے گئے انٹرویو میں شیخ حسینہ واجد نے کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ دسمبر کے آس پاس وطن واپس جائیں اور عدالت کے سامنے پیش ہو کر قانونی کارروائی کا سامنا کریں، اگر ان کی قسمت میں موت لکھی ہے تو وہ چاہتی ہیں کہ یہ ان کی اپنی سرزمین پر آئے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ وہ کسی بھی ممکنہ صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور اپنی جماعت کے رہنماؤں کے ہمراہ وطن واپسی کے فیصلے پر قائم ہیں، وہ قانون کے مطابق عدالت میں پیش ہو کر اپنا مؤقف بھی سامنے رکھیں گی۔
Sheikh Hasina reportedly plans to return home around December.
— Swarajya (@SwarajyaMag) July 10, 2026
⚖️ She says she will surrender voluntarily before court.
🇮🇳 Hasina has been living in India since August 2024.https://t.co/N38qfmZNty
شیخ حسینہ واجد نے اپنی جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پارٹی سے وابستہ افراد شدید دباؤ، گرفتاریوں اور مختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنوں کے لیے حالات انتہائی دشوار ہو چکے ہیں، جس پر انہیں گہری تشویش ہے۔
واضح رہے کہ شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس حکومت سے معزول ہونے کے بعد بنگلادیش چھوڑ کر بھارت منتقل ہوگئی تھیں، جہاں وہ اس وقت مقیم ہیں۔ ان کی معزولی کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، جبکہ ان کے خلاف مختلف مقدمات بھی قائم کیے گئے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق شیخ حسینہ واجد کے تازہ بیان پر بنگلادیشی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حکومتی ترجمان نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ سیاسی حلقوں میں ان کی ممکنہ وطن واپسی اور اس کے اثرات پر بحث جاری ہے۔
یاد رہے کہ اگر شیخ حسینہ واجد اپنے اعلان کے مطابق وطن واپس آتی ہیں تو بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئی پیش رفت سامنے آسکتی ہے، جس کے ملکی سیاسی منظرنامے پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔







