خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے کی تیاریاں جاری ہیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ ایک بار پھر اسرائیل کے ساتھ مل کر، خصوصاً فضائی حملوں کے ذریعے، جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو تنازع جغرافیائی طور پر مزید پھیل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کا دائرہ پہلے ہی باب المندب کی آبنائے تک پہنچ چکا ہے، جو بحیرۂ احمر کے دہانے پر واقع اہم آبی گزرگاہ ہے۔ ان کا اشارہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ کشیدگی کی جانب تھا۔

اکرمینیا کے مطابق، اب ایران کی کارروائیوں کا دائرہ اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں سے لے کر خلیج عرب کے ساحلی ممالک تک پھیل چکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی صورتِ حال اب "مشکل اور غیر یقینی" ہو چکی ہے اور واشنگٹن نئی حکمتِ عملی تلاش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے جمعے کو اعلان کیا تھا کہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو منگل کو وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

آبنائے ہرمز پر ایران اور عمان کے مذاکرات میں پیش رفت

ادھر ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق عمان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ نے تہران پر حملے دوبارہ شروع کیے، جبکہ جون میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق ہوا تھا، جس کے بعد کچھ عرصے تک کشیدگی میں کمی آئی تھی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ جمعہ اور ہفتے کو تہران میں ایران اور عمان کے نائب وزرائے خارجہ کے درمیان کئی ادوار پر مشتمل مذاکرات ہوئے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خودمختار حقوق کا احترام کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اصولوں اور عملی طریقۂ کار پر بات چیت کی۔

اسماعیل بقائی نے مذاکرات کو "مفید" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی اور سیاسی مشاورت کا عمل جاری رہے گا۔

جون میں ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر سروس فیس عائد کرنے کی تجویز پر بھی بات چیت کی تھی، تاہم امریکہ نے اس کی مخالفت کی تھی۔

بعد ازاں عمان نے کہا تھا کہ جہاز اس کی سمندری حدود استعمال کرتے ہوئے بھی آبنائے ہرمز عبور کر سکتے ہیں، جس پر ایران نے سخت ردِعمل ظاہر کیا تھا۔

ایران نے ہفتے کو دعویٰ کیا تھا کہ تقریباً دو ہفتوں سے جاری حملوں کے بعد گزشتہ روز اس نے کسی نئے امریکی حملے کا مشاہدہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کے مطابق پینٹاگون نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلسل چودھویں رات ایران پر حملوں کا منصوبہ پیش کیا، تاہم انہوں نے اسے منظور کرنے کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔

رپورٹ کے مطابق عمانی وفد کی تہران آمد اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے حملے روکنے کی ہدایت دی۔

ایک اور سوال کے جواب میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کی موجودہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔