حماس کے سابق رہنماؤں، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ سنوار اور محمد ضیف سمیت تنظیم کے دیگر اہم رہنماؤں کی اسرائیلی حملوں میں شہادت کے بعد خلیل الحیہ کا کردار اور اثر و رسوخ نمایاں طور پر بڑھ گیا تھا۔

خلیل الحیہ کون ہیں؟

خلیل الحیہ 1960 میں غزہ پٹی میں پیدا ہوئے اور 1987 میں حماس کے قیام کے وقت سے ہی اس تنظیم کے رکن رہے ہیں۔

یحییٰ سنوار کے نائب اور حماس کے سینیئر عہدیدار خلیل الحیہ کو اس عہدے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا تھا۔

غزہ سے باہر موجود حماس کی قیادت میں خلیل الحیہ ایک انتہائی سینیئر عہدیدار ہیں۔ قطر میں انہوں نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں حماس کے وفد کی قیادت بھی کی۔

خلیل الحیہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال کے بارے میں گہری معلومات، مضبوط روابط اور وسیع تفہیم رکھتے ہیں۔

یحییٰ سنوار کی شہادت کے بعد خلیل الحیہ نے سیاسی اور خارجی امور کی ذمہ داریاں سنبھالیں، جب کہ وہ اب تک غزہ سے متعلق معاملات کی براہِ راست نگرانی بھی کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی حملہ کیا گیا تھا، جس میں خلیل الحیہ اور ان کے ساتھی بھی نشانے پر تھے، تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔