رپورٹ کے مطابق اجلاس اس وقت منعقد ہوا جب اسرائیل اور حماس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجویز کردہ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر متفق ہو چکے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔

اجلاس کے دوران شرکا نے غزہ میں سلامتی، گورننس، تعمیر نو اور انسانی امداد کے لیے عملی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے ممکنہ کردار اور مالی معاونت کے نکات پر اتفاق کیا ہے جو امریکا کے ساتھ شیئر کیے جائیں گے۔

مزید براں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے حال ہی میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی اور حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یورپی اور عرب حکام نے ٹرمپ منصوبے میں موجود بعض خلا پر تشویش ظاہر کی ہے۔


واضع رہے کہ اجلاس میں قطر، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے اہم کردار ادا کیا جنہوں نے حماس کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے میں مدد دی۔ ٹرمپ منصوبے میں اقوام متحدہ کے تحت ایک عالمی استحکام فورس کے قیام کی تجویز بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق انڈونیشیا، اٹلی اور آذربائیجان نے اس فورس میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے کہا کہ ان کا ملک سلامتی کے ساتھ ساتھ تعمیر نو کے عمل میں بھی بھرپور کردار ادا کرے گا۔ فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ میں مجوزہ فورس کے مینڈیٹ پر ابتدائی مشاورت شروع کر دی ہے۔ یورپی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ موجودہ موقع کو دیرپا امن کے قیام کے لیے ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔