پابندی کی زد میں آنے والی تنظیموں میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز، آکسفیم اور دیگر بڑے امدادی ادارے شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت ان تنظیموں سے عملے، فنڈنگ اور سرگرمیوں سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی گئیں تھیں، جو ان کے بقول فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب امدادی اداروں نے ان پابندیوں کو من مانی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے غزہ میں پہلے ہی بدترین انسانی بحران مزید شدید ہو جائے گا۔
ادھر کینیڈا، برطانیہ، فرانس سمیت کم از کم 10 ممالک نے غزہ میں بگڑتی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹیں فوری طور پر ختم کی جائیں، رفح سمیت تمام گزرگاہیں کھولی جائیں اور اقوام متحدہ اور یو این آر ڈبلیو اے کو مکمل رسائی دی جائے۔
ان ممالک کے مطابق غزہ میں لاکھوں افراد شدید غذائی قلت، سرد موسم، بارشوں اور پناہ گاہوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسرائیلی پابندیوں کے باعث خوراک، صاف پانی اور طبی امداد کی فراہمی بری طرح متاثر ہو رہی ہے، جس سے انسانی بحران مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔






