اخبار کے مطابق ٹرمپ اور عاصم منیر کے تعلق کو ہاف جوکنگ "برومانس" قرار دیا گیا، جبکہ فیلڈ مارشل کو "Disciplined Dark Horse" اور "Deliberate Mystery" جیسے القابات دیے گئے۔ وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ پاکستانی ملٹری ہیڈ کے لیے پہلی مثال بنی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی عسکری کارکردگی نے امریکی قیادت کو متاثر کیا اور 2025 کو پاک-امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال قرار دیا گیا۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا اور امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک بات چیت کی گئی۔ امریکی جریدے نے لکھا کہ 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہے۔

اخبار کے مطابق نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی اور 2025 میں جنوبی ایشیا کے توازن کو دوبارہ لکھنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اہم کردار ادا کیا۔