برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو ہونے والی اس ملاقات کا محور غزہ میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ ملاقات فلوریڈا میں ٹرمپ کے ’مار اے لاگو‘ کلب میں ہوئی، جہاں صحافیوں سے گفتگو کے دوران امریکی صدر کا لہجہ نیتن یاہو کے لیے خاصا معاون نظر آیا، حالانکہ بعض امریکی مشیروں اور اتحادیوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر دانستہ طور پر سست روی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کی جانب جلد پیش رفت چاہتے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حماس کو غیر مسلح کرنا ناگزیر ہوگا۔
ایران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے سخت مؤقف اپنایا اور کہا کہ اگر ایران نے اپنے بیلسٹک میزائل اور جوہری پروگرام پر کام جاری رکھا تو وہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر ایک اور جوابی حملے کی حمایت کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر نیتن یاہو کی تعریف کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر اسرائیل کو غلط قیادت میسر ہوتی تو شاید آج اس کا وجود ہی خطرے میں ہوتا۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات میں معافی دینے پر غور کر رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اسرائیل اور شام کے تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں، اگرچہ گزشتہ برس بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل پر شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، تاہم طویل المدتی اہداف پر اب تک کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آ سکی اور خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں۔ نیتن یاہو کے مطابق صدر ٹرمپ نے انہیں انہی مذاکرات کے لیے مدعو کیا تھا، جبکہ واشنگٹن غزہ میں عبوری انتظامیہ اور بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کے قیام پر زور دے رہا ہے، جس پر اسرائیل تذبذب کا شکار ہے۔
اگرچہ واشنگٹن نے حالیہ عرصے میں اسرائیل اور اس کے حریفوں یعنی حماس، ایران اور لبنان کے ساتھ جنگ بندیوں میں کردار ادا کیا ہے، تاہم نیتن یاہو کو خدشہ ہے کہ جنگ سے کمزور ہونے والے ان کے مخالفین دوبارہ طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔
غزہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو علاقے سے انخلا کرنا ہے جبکہ حماس کو ہتھیار ڈال کر اقتدار سے دستبردار ہونا ہوگا۔ تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق نیتن یاہو دوسرے مرحلے پر جانے سے قبل حماس کے قبضے میں موجود آخری اسرائیلی مغوی ران گویلی کی باقیات کی واپسی کا مطالبہ کریں گے۔ اسی شرط کے باعث اسرائیل نے اب تک مصر کے ساتھ رفح کراسنگ بھی مکمل طور پر نہیں کھولی۔
تل ابیب یونیورسٹی کے ماہر سیاسیات چک فریلیچ کے مطابق اسرائیل میں اکتوبر میں متوقع انتخابات کے باعث نیتن یاہو دباؤ میں ہیں اور وہ انتخابی سال میں ڈونلڈ ٹرمپ سے تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے، اس لیے انہیں بعض معاملات میں سمجھوتے کرنا پڑ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ میں کشیدگی برقرار ہے اور جنگ بندی کے باوجود اکتوبر سے اب تک 400 سے زائد فلسطینی اور تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ادھر لبنان میں حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے کے عمل پر تنازع بدستور جاری ہے اور اسرائیلی فضائی حملوں کے باعث خطے میں امن کی کوششیں مسلسل خطرات سے دوچار ہیں۔






