فرانسیسی صدارتی دفتر ایلیزے پیلس کے مطابق دھماکوں کے وقت صدر ایمانوئیل میکرون ہوٹل سے روانہ ہو چکے تھے اور شامی صدارتی محل میں صدر احمد الشراع سے ملاقات کے لیے پہنچ چکے تھے، دھماکوں سے فرانسیسی وفد یا صدارتی قافلے کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دونوں دھماکے دمشق کے انتہائی حساس علاقے میں پیش آئے، جس کے فوری بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے جبکہ اضافی سیکیورٹی اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے۔ دھماکوں کے بعد شہر کے مختلف حساس مقامات پر بھی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
نشریاتی ادارے رائٹرز کے مطابق ایک عینی شاہد نے دھماکوں کی آواز سننے اور جائے وقوعہ سے دھواں اٹھتے دیکھنے کی تصدیق کی۔ واقعے کے بعد امدادی اور سیکیورٹی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور علاقے کی مکمل تلاشی کا عمل شروع کر دیا گیا۔
شامی سیکیورٹی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ایک بم کچرے کے کنٹینر میں نصب کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا دھماکا فور سیزنز ہوٹل کے قریب کھڑی ایک گاڑی میں نصب دھماکا خیز مواد پھٹنے سے ہوا۔ حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
فرانسیسی ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ دھماکوں کی شدت اتنی نہیں تھی کہ اس کی آواز صدارتی قافلے تک پہنچتی، جبکہ صدر میکرون کے ہمراہ موجود فرانسیسی صحافیوں نے بھی صبح کے سرکاری پروگراموں کے دوران کسی غیر معمولی صورتحال کی اطلاع نہیں دی۔
بعد ازاں شامی سرکاری ٹیلی وژن نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون اور شامی صدر احمد الشراع کے درمیان صدارتی محل میں ہونے والی ملاقات کی تصدیق کی۔ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، شام کی موجودہ صورتحال، علاقائی امن، سیکیورٹی اور باہمی تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔
مزید پڑھیں: صدر ٹرمپ 36 ویں نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ روانہ
واضح رہے کہ 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔ ان کے اس دورے کو سفارتی اعتبار سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم دورے کے دوران ہونے والے دھماکوں نے شام میں درپیش سیکیورٹی خدشات اور امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شام میں سیاسی تبدیلیوں کے باوجود سیکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں، جبکہ عالمی رہنماؤں کے دوروں کے دوران حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی ہے۔






