اس غیر معمولی استقبال کے پیچھے چند اہم سفارتی اور ثقافتی وجوہات تھیں، اس وقت چینی حکام نے اس دورے کو "اسٹیٹ وزٹ پلس" قرار دیا تھا۔ اس کا مقصد ٹرمپ کو یہ احساس دلانا تھا کہ انہیں ماضی کے دیگر امریکی صدور کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
بچوں کے ذریعے پرجوش استقبال اس خصوصی پروٹوکول کا حصہ تھا تاکہ ٹرمپ کی انا اور ان کی "عظمت" پسندی کو متاثر کیا جا سکے۔
سفارتی زبان میں بچوں کا استقبال کسی بھی ملک کی "نرم طاقت" یا دوستانہ امیج کو ظاہر کرتا ہے۔ چین یہ پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ ایک پرامن اور مہمان نواز ملک ہے جو مستقبل کی نسلوں کے درمیان دوستی کا خواہاں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کے دوران بڑی تقاریب اور عوامی والہانہ پن کو پسند کرنے کے لیے مشہور ہیں۔
A warm welcome in Beijing!
— The Thursday Times (@thursday_times) May 14, 2026
Chinese students greet President Trump with cheers and flags at the Great Hall of the People as he arrives for high-stakes talks with President Xi Jinping.#Trump #China pic.twitter.com/fZO741NyqF
ایک بار پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دورے پر ہیں، جب وہ چینی صدر کے ساتھ ’گریٹ ہال‘ پہنچے تو بچوں نے اچھلنا شروع کردیا، بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ بچوں نے کوئی عجب چیز دیکھ لی ہو۔
اس پر ایران میں مقیم ایک صحافی یوشع ظفر حیاتی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شی چن پنگ نے یہاں بھی ٹرمپ کے ساتھ ہاتھ کردیا ہے، انہوں نے ٹرمپ کے رویے پر دنیا کے اچھلنے کودنے سے تشبیہ دی ہے۔
وہ کہتے ہیں اس میں امریکی صدر کے حوصلے کو بھی پرکھا گیا ہے، استقبال میں ایک پیغام یہ بھی تھا کہ ’ چین امریکا کو چین سے نہیں رہنے دے گا۔‘






