رواں ہفتے جنوبی اور وسطی چین شدید موسمی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں رہے، جبکہ ایک سپر طوفان ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی صوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔

حکام کے مطابق جنوبی علاقے گوانگ شی میں مے ساک طوفان کے باعث ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق تیز رفتار سیلابی ریلے نے علاقے کے 40 دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے توڑ دیے، جس سے تقریباً 13 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔

لیولان گاؤں میں جہاں آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا تھا، سیلابی پانی اتر چکا ہے، تاہم گلیاں اور مکانات اب بھی موٹی کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں۔ کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ کر کھیتوں میں جا دھنسیں۔

مقامی رہائشی وو یوہاؤ نے کہا کہ قدرتی آفات کے سامنے لوگ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، تاہم فوج اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی امدادی سرگرمیوں نے متاثرین کو حوصلہ دیا ہے۔

ادھر امدادی ٹیمیں دریا کے دوسری جانب پھنسے افراد تک خوراک اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے بڑے ڈرون استعمال کر رہی ہیں، جب کہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھی روانہ کر دیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ آبی ذخیرے کے ٹوٹے ہوئے بند سے سیلابی پانی تیزی سے بہہ رہا ہے، جب کہ امدادی کارکن کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ مقامی رضاکار بھی سرکاری ٹیموں کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔

گوانگ شی میں تقریباً تین لاکھ 75 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی دوسری بلند ترین سطح برقرار رکھی ہوئی ہے۔

وزیرِ آبی وسائل لی گوئی ینگ نے خبردار کیا ہے کہ گوانگ شی کے ووجو ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے چھ میٹر سے زائد بلند ہونے کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب وسطی صوبے ہوبے میں گرج چمک، شدید آندھیوں اور تیز ہواؤں کے باعث 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے، جبکہ ایک شخص لاپتا ہے۔ حکام کے مطابق 4 ہزار 800 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 22 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

ادھر مشرقی صوبے سپر طوفان باوی کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کے ہفتے اور اتوار کے درمیان ژی جیانگ اور فوجیان کی سرحد کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا، شمال مغربی صوبے گانسو میں منگل کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

چینی حکومت نے ہوبے میں بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے 7 کروڑ یوان اور گانسو میں تعمیرِ نو کے لیے مزید 6 کروڑ یوان مختص کر دیے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور فوسل ایندھن کے بڑھتے استعمال کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔