رواں ہفتے جنوبی اور وسطی چین شدید موسمی تباہ کاریوں کی لپیٹ میں رہے، جبکہ ایک سپر طوفان ہفتے کے اختتام پر ملک کے مشرقی صوبوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔
حکام کے مطابق جنوبی علاقے گوانگ شی میں مے ساک طوفان کے باعث ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے 6 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
🇨🇳 A horrific tornado in China ripped a man out of his own apartment
— Visegrád 24 (@visegrad24) July 8, 2026
A deadly tornado tore through central China’s Hubei province with wind speeds reaching 260 km/h.
At least 17 people were killed and more than 331 injured.
In the city of Huanggang, the wind was so powerful… pic.twitter.com/DBqlw6WjaD
سرکاری میڈیا کے مطابق تیز رفتار سیلابی ریلے نے علاقے کے 40 دریاؤں اور آبی گزرگاہوں کے کنارے توڑ دیے، جس سے تقریباً 13 ہزار ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی۔
لیولان گاؤں میں جہاں آبی ذخیرے کا بند ٹوٹ گیا تھا، سیلابی پانی اتر چکا ہے، تاہم گلیاں اور مکانات اب بھی موٹی کیچڑ سے بھرے ہوئے ہیں۔ کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں بہہ کر کھیتوں میں جا دھنسیں۔
مقامی رہائشی وو یوہاؤ نے کہا کہ قدرتی آفات کے سامنے لوگ خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں، تاہم فوج اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی امدادی سرگرمیوں نے متاثرین کو حوصلہ دیا ہے۔
ادھر امدادی ٹیمیں دریا کے دوسری جانب پھنسے افراد تک خوراک اور ضروری سامان پہنچانے کے لیے بڑے ڈرون استعمال کر رہی ہیں، جب کہ حکام نے متاثرہ علاقوں میں خوراک، برساتی لباس، ربڑ کی کشتیاں اور دیگر امدادی سامان بھی روانہ کر دیا ہے۔
China Underwater! Typhoon Maysak Triggers Massive Floods Across Southwest China pic.twitter.com/GpGohET1iT
— The MES Times (@themestimes) July 8, 2026
سرکاری ٹی وی کی جاری کردہ ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ آبی ذخیرے کے ٹوٹے ہوئے بند سے سیلابی پانی تیزی سے بہہ رہا ہے، جب کہ امدادی کارکن کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔ مقامی رضاکار بھی سرکاری ٹیموں کے شانہ بشانہ امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔
گوانگ شی میں تقریباً تین لاکھ 75 ہزار افراد اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ حکام نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کی دوسری بلند ترین سطح برقرار رکھی ہوئی ہے۔
وزیرِ آبی وسائل لی گوئی ینگ نے خبردار کیا ہے کہ گوانگ شی کے ووجو ہائیڈرولوجیکل اسٹیشن پر پانی کی سطح خطرے کے نشان سے چھ میٹر سے زائد بلند ہونے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب وسطی صوبے ہوبے میں گرج چمک، شدید آندھیوں اور تیز ہواؤں کے باعث 11 افراد ہلاک اور 331 زخمی ہوئے، جبکہ ایک شخص لاپتا ہے۔ حکام کے مطابق 4 ہزار 800 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 22 مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
ادھر مشرقی صوبے سپر طوفان باوی کی آمد کی تیاریوں میں مصروف ہیں، جس کے ہفتے اور اتوار کے درمیان ژی جیانگ اور فوجیان کی سرحد کے قریب ساحل سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
11 dead, 1 missing after thunderstorms, gales hit central China s Hubei
— The Peninsula Qatar (@PeninsulaQatar) July 7, 2026
Read more: https://t.co/bFhdcNWM33 pic.twitter.com/nsVGKnUkas
دریں اثنا، شمال مغربی صوبے گانسو میں منگل کو ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
چینی حکومت نے ہوبے میں بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے 7 کروڑ یوان اور گانسو میں تعمیرِ نو کے لیے مزید 6 کروڑ یوان مختص کر دیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور فوسل ایندھن کے بڑھتے استعمال کے باعث دنیا بھر میں شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔






