رپورٹ کے مطابق یہ تعداد برطانیہ کی دیگر جامعات کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ فریڈم آف انفارمیشن کی درخواستوں کے ذریعے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ملک بھر کی 42 جامعات نے مجموعی طور پر 236 طلبہ اور ملازمین کے خلاف غزہ کے حق میں احتجاجی سرگرمیوں پر تحقیقات کیں۔
مزید یہ کہ ایک طالبہ خدیجہ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں ایک واٹس ایپ گروپ میں اپنے ایسے لیکچرر سے متعلق تبصرہ کرنے پر تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا، جو ماضی میں اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکے تھے۔
بعد ازاں انہیں چند ماہ تک متعلقہ کلاسز میں شرکت سے روک دیا گیا، دو ہزار الفاظ پر مشتمل عکاس مضمون لکھنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ انہیں برطانوی حکومت کے انسدادِ دہشت گردی پروگرام پریوینٹ کے لیے بھی زیر غور لایا گیا، تاہم آخرکار انہیں اس پروگرام میں ریفر نہیں کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق متعدد طلبہ کے خلاف کیمپس میں فلسطین کے حق میں قائم احتجاجی کیمپ، مختلف مظاہروں، سوشل میڈیا پوسٹس، بینرز آویزاں کرنے اور دیگر احتجاجی سرگرمیوں پر بھی کارروائیاں کی گئیں۔
متاثرہ طلبہ اور طلبہ یونین کے نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ یونیورسٹی نے تادیبی کارروائیوں کو احتجاجی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے استعمال کیا، جس کے باعث طلبہ میں خوف کی فضا پیدا ہوئی۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکالنے کا عندیہ، احمد الشرع کی تعریف بھی کر دی
دوسری جانب کنگز کالج لندن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کسی بھی طالب علم کے خلاف صرف فلسطین کی حمایت یا قانونی احتجاج میں شرکت کی بنیاد پر کارروائی نہیں کرتی۔ انتظامیہ کے مطابق تادیبی اقدامات صرف ایسے معاملات میں کیے جاتے ہیں جہاں کسی شکایت کے تحت دوسروں کی سلامتی، آزادی اظہار یا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا معاملہ سامنے آئے۔







