حکومتی بیان کے مطابق صدر پرابووو نے جمعرات کی شام مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔

صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو کوئی فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں ہے یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً اس بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کے لیے انڈونیشیا کی طویل عرصے سے جاری حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل انڈونیشین علماء کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکA کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔

دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم نہضۃ العلماء کا کہنا ہے کہ حکومت اس پلیٹ فارم کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔

تنظیم کے سربراہ کے مطابق انڈونیشیا اس بورڈ کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دے سکتا ہے۔

ادھر انڈونیشیا کے وزیر خارجہ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث بورڈ آف پیس کی تمام سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔