حکومتی بیان کے مطابق صدر پرابووو نے جمعرات کی شام مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔
صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو کوئی فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں ہے یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً اس بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔
Indonesia will leave the Board of Peace if it does not help Palestinians. pic.twitter.com/sOYGmqTpPW
— Sprinter Press (@SprinterPress) March 6, 2026
انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کے لیے انڈونیشیا کی طویل عرصے سے جاری حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل انڈونیشین علماء کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکA کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔
دوسری جانب ملک کی سب سے بڑی اسلامی تنظیم نہضۃ العلماء کا کہنا ہے کہ حکومت اس پلیٹ فارم کو مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔
🚨BREAKING: Indonesia warns it will leave the Board of Peace if it does not help Palestinians. pic.twitter.com/lJg2Y1AMdM
— The Daily CPEC (@TheDailyCPEC) March 6, 2026
تنظیم کے سربراہ کے مطابق انڈونیشیا اس بورڈ کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے تناظر میں جنگ بندی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دے سکتا ہے۔
ادھر انڈونیشیا کے وزیر خارجہ پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ ایران جنگ کے باعث بورڈ آف پیس کی تمام سرگرمیاں فی الحال معطل کر دی گئی ہیں۔





