بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کے مطابق 570 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بنگلہ دیش کے اندر، جب کہ 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے بیرونِ ملک ضبط کیے گئے ہیں۔

ادارے کے سربراہ اختیار محمد مامون نے سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ شیخ حسینہ اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بیرونِ ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ رواں سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سے آگاہ کریں گے۔

اقتدار سے بے دخلی کے بعد شیخ حسینہ کو متعدد مقدمات میں غیر حاضری میں سزائیں سنائی جا چکی ہیں، جن میں ڈھاکا کے پوش علاقے میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے متعلق بدعنوانی کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

ایک عدالت انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی سنا چکی ہے۔

واضح رہے کہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے انڈیا میں مقیم ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ صلاح الدین احمد نے کہا کہ حکومت، جس نے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کر رکھا ہے، اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ وہ وطن واپس آ کر عدالت کا سامنا کریں۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ نافذ کیا جائے گا، جب کہ یہ عدالت ہی طے کرے گی کہ اپیل کی کوئی گنجائش موجود ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے بے دخل ہونے اور انڈیا فرار ہونے کے بعد سے حکام شیخ حسینہ کی دولت، ان کے رشتہ داروں اور ان بڑے کاروباری گروپوں کی تحقیقات کر رہے ہیں جن پر ان کے 15 سالہ دورِ حکومت میں ناجائز فوائد حاصل کرنے کے الزامات ہیں۔