میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بونگائیگاؤں ڈسٹرکٹ کانگریس کے صدر گِرش بارواہ نے جل جیون مشن کو ناکام منصوبہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ ملک کے سب سے زیادہ بدعنوان منصوبوں میں شامل ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسام میں اس منصوبے کے انچارج جینتا مالابارواہ کو مبینہ بے ضابطگیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔
گِرش بارواہ کے مطابق جل جیون مشن میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے فہرست میں اتر پردیش سرفہرست جبکہ آسام دوسرے نمبر پر ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منصوبے کے تحت فی خاندان تقریباً 40 ہزار روپے خرچ کیے گئے جو ان کے بقول غیر معمولی اور بلا جواز رقم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیشتر علاقوں میں یہ منصوبہ ناکام رہا ہے اور پانی کی فراہمی بدستور غیر یقینی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ عوام اس لیے احتجاج نہیں کر رہے کیونکہ بہت سے افراد کے پاس پہلے ہی پانی کے متبادل انتظامات موجود ہیں۔ ان کے بقول زیادہ تر کنکشن ان علاقوں میں دیے گئے جہاں پہلے ہی پانی وافر مقدار میں دستیاب تھا جس سے یہ منصوبہ ضرورت کے بجائے اضافی سہولت بن کر رہ گیا۔
ڈسٹرکٹ کانگریس کے صدر نے الزام لگایا کہ جن علاقوں میں واقعی پانی کی شدید قلت ہے انہیں جان بوجھ کر منصوبے سے باہر رکھا گیا تاکہ مبینہ اسکینڈل کے خلاف ردعمل سے بچا جا سکے۔ انہوں نے جینتا مالابارواہ پر جل جیون مشن کے نام پر سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس رہنما نے مطالبہ کیا کہ مبینہ گھوٹالے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اصلاحی اقدامات نہ کیے گئے تو پارٹی اپنی احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائے گی۔






