امریکی ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے حملے روک کر سفارتکاری کو ایک اور موقع دیا ہے، تاہم وقت بہت کم ہے اور اب مذاکرات یا تو تیزی سے کامیاب ہوں گے یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ چند ثالث ممالک کی درخواست پر فوجی کارروائی مؤخر کی گئی ہے کیونکہ ان کے مطابق ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم سے آئندہ ملاقات میں ایران سے متعلق حکمت عملی پر بھی بات چیت ہوگی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ اپنی کئی تصاویر بھی شیئر کیں، جن میں انہیں مختلف جنگی اور جارحانہ انداز میں دکھایا گیا ہے۔
سائنس فکشن فلموں کے پوسٹرز کے انداز میں تیار کی گئی ان تصاویر میں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں اور امریکی طاقت کا فرضی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
ایک تصویر میں ٹرمپ کو مشہور سائنس فکشن سیریز اسٹار ٹریک کے طرز پر خلائی کمانڈر کے روپ میں دکھایا گیا، جبکہ ایک اور تصویر میں وہ ایک امریکی اسٹیلتھ بمبار طیارے کے سامنے کھڑے نظر آئے، جس پر ’’دنیا کا محافظ‘‘ تحریر تھا اور پس منظر میں ایران کے جلتے ہوئے اہداف دکھائے گئے تھے۔
ایک تصویر میں ایران سے منسوب ایک بڑے آئل ٹینکر کو آگ کی لپیٹ میں دکھایا گیا، جبکہ ایک اور تصویر میں صدر ٹرمپ امریکی پرچم کے ساتھ ایک ضبط شدہ ایرانی آئل ٹینکر پر کھڑے نظر آئے، جس پر کیپشن درج تھا ’’اب یہ ہمارا آئل ٹینکر ہے‘‘۔
اسی طرح ایک اور تصویر میں امریکی لڑاکا طیاروں کو ایران کے اہم خارگ آئل برآمدی ٹرمینل اور ساحلی آئل ریفائنری کی تنصیبات پر بمباری کرتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ بعض تصاویر میں صدر ٹرمپ کو امریکی جنگی بحری جہازوں کے ایک بڑے بیڑے کی قیادت کرتے ہوئے بھی پیش کیا گیا۔






