دوحہ میں ترک وزیرِ خارجہ کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے قطری وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں ایرانی حملوں کو فوری طور پر رک جانا چاہیے۔

سفارت کاری کی گنجائش سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس کی گنجائش ہمیشہ موجود ہوتی ہے اور قطر اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی تنازع کا پہلا اور آخری حل سفارت کاری ہی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ہم روزانہ حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں، اور جب قطر کو نشانہ بنایا گیا تو یہ ہمارے لیے ایک بڑا دھچکہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ سفارت کاری جارحیت کے بجائے باہمی احترام پر مبنی ہونی چاہیے، لیکن اس جارحیت کے بعد ایرانیوں پر اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔

قطری وزیرِ اعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ جنگ اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں اپنے پڑوسیوں کو نشانہ بنانے کا انتخاب کیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی عہدیدار کے پاکستانی میزائل صلاحیت سے ممکنہ خطرے کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہیں، دفترِ خارجہ

اس موقع پر ترک وزیرِ خارجہ حکان فیدان نے کہا کہ جنگ کے باعث ہماری توجہ فلسطین اور غزہ سے نہیں ہٹنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا دورۂ قطر اظہارِ یکجہتی کے لیے ہے، اور ہم ان حملوں کی مذمت کرتے ہیں جو شہریوں کی جانوں کو نظرانداز کرتے ہوئے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بناتے ہیں۔