امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران تقریباً تمام شرائط ماننے اور ہر چیز سے دستبردار ہونے کے لیے تیار تھا، لیکن صرف دو گھنٹے بعد اس نے ڈرون کے ذریعے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنا دیا۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کو ایک مسئلہ درپیش ہے، جب کہ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کے اس اقدام کے جواب میں امریکا نے گزشتہ رات انتہائی سخت ردعمل دیا۔

اس سے قبل امریکا نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ حملے کے جواب میں امریکی فوج نے ایران کے اندر پاسدارانِ انقلاب کے 140 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی فوج نے امریکی کارروائیوں کے ردعمل میں قطر، کویت، بحرین، عمان اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حالیہ پیش رفت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جب کہ خطے میں ممکنہ وسیع فوجی تصادم کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔