امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات امریکی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں۔ تاہم رپورٹ میں ان معلومات کی نوعیت یا ان سے متعلق شواہد کی مکمل تفصیلات بیان نہیں کی گئیں، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔

رپورٹ کے مطابق ایران کئی برسوں سے یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ وہ 3 جنوری 2020 کو امریکی کارروائی میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی حکام ماضی میں بھی ایرانی خطرات کے حوالے سے مختلف سطحوں پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

اس معاملے پر اسرائیلی سفارت خانے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مشن کی جانب سے بھی رپورٹ شائع ہونے تک فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے براہِ راست تبصرہ کرنے کے بجائے صحافیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کی جانب توجہ دلائی۔ صدر ٹرمپ نے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے بقول ایران انہیں نشانہ بنانا چاہتا ہے اور وہ مختلف مبینہ فہرستوں میں شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اب تک محفوظ رہے ہیں، تاہم مستقبل کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

ادھر امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ بھی ہوا، جس میں دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی صورتحال، سکیورٹی تعاون اور باہمی رابطوں کو برقرار رکھنے پر تبادلۂ خیال کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے قریبی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں سے متعلق واقعات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور جوابی اقدامات کا سلسلہ دیکھنے میں آیا، جس نے خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کیساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، مسائل کے حل کیلئے پرعزم ہیں: امریکی حکام کا دعویٰ

ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین، کویت، قطر اور اردن میں واقع امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب امریکی حکام بھی خطے میں اپنی فوجی سرگرمیوں اور دفاعی تیاریوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی، توانائی کی رسد اور عالمی معیشت پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اسی لیے مختلف ممالک سفارتی ذرائع سے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں تاکہ کسی بڑے علاقائی تنازع سے بچا جا سکے۔