تفصیلات کے مطابق صدر ٹرمپ نے پیر کی سہ پہر بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس نیوز کے ساتھ فون انٹرویو میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے، بڑی حد تک۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے پاس کوئی بحریہ نہیں، کوئی مواصلات کا نظام موجود نہیں اور فضائی طاقت بھی نہیں۔ ان کے میزائل بکھرے ہوئے ہیں اور ان کے ڈرونز ہر جگہ مار دیے جا رہے ہیں، بشمول ان کے تیار شدہ ڈرونز کے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر آپ دیکھیں تو ایران کے پاس فوجی لحاظ سے کچھ بھی نہیں بچا۔

واضح رہے کہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی جگہ سپریم لیڈر بن گئے ہیں، جس پر صدر ٹرمپ نے کہا، میرے پاس اس کے لیے کوئی پیغام نہیں ہے، کوئی بھی نہیں، جو بھی ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی قیادت کے لیے ان کے ذہن میں کوئی اور نام ہے۔

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تیل کی تقریباً بیس فیصد ترسیل کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گذرگاہ مؤثر طور پر رک گئی تھی اور امریکا بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اگر ایران نے پانی کی گزرگاہ روکی تو یہ اس ملک کے لیے خطرناک ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ہر وہ چیز گولی مار دی ہے جو ہمیں مارنی تھی، بہتر ہے کہ وہ کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ اگر ایسا کریں گے تو یہ ایران کا خاتمہ ہوگا۔ صدر نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اب کھلا ہے اور بحری جہاز گذرگاہ سے گزر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے ابتدائی طور پر اندازہ لگایا تھا کہ جنگ مکمل ہونے میں تقریباً ایک ماہ لگے گا، لیکن اب  ہم شیڈول سے بہت آگے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے جنگ کے جلد ختم ہونے کے بارے میں سوال پر کہا کہ سمیٹنا میرے ذہن میں ہے، کسی اور کا نہیں۔