عالمی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اس وقت ختم ہوگا جب یا تو ایرانی حکومت تبدیل ہو جائے یا پھر تہران یہ سمجھ لے کہ خطے میں بدامنی پھیلانے اور دیگر ممالک کو نشانہ بنانے کی قیمت اسے چکانا پڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کرتے ہیں، تاہم ایران کا جوہری پروگرام معاہدے کے ساتھ یا بغیر، ہر صورت ختم ہونا چاہیے۔
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے حوالے سے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ٹرمپ کی اس تجویز کے حامی ہیں جس کے تحت ریاض کو صرف پرامن شہری مقاصد کے لیے جوہری پروگرام کی اجازت دی جائے، فوجی مقاصد کے لیے نہیں۔
لبنان سے متعلق گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کو سرحد سے 8 سے 13 کلومیٹر پیچھے دھکیل دیا ہے اور اس کے تقریباً 94 فیصد میزائل اور راکٹ تباہ کر دیے ہیں۔
مزید پڑھیں: یوکرین نے ایرانی تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، اس کا جواب دیا جائے گا، عباس عراقچی
نیتن یاہو کے مطابق ایک نئے سہ فریقی معاہدے کے تحت کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا راستہ کھلا ہے، جس کے تحت اسرائیل لبنان سے انخلا کرے گا جب کہ لبنانی حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرے گی۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ لبنانی فوج ان علاقوں پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔







