برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کے بعد اینڈی برنہم نے باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ وہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کے ساتویں وزیراعظم ہیں۔
10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنے پہلے خطاب میں اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانوی عوام مسلسل بدلتی ہوئی قیادت سے تنگ آ چکے ہیں اور اب ملک کو استحکام کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ لوگ سیاست سے مایوس ہیں، ہم عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، لیکن اب ہمیں بہتر کارکردگی دکھانا ہوگی۔
نئے وزیراعظم نے کہا کہ ان کی حکومت برطانیہ کے لیے ایک ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگی اور آئندہ چند ماہ میں ملک کے لیے 10 سالہ معاشی اور سیاسی منصوبہ پیش کیا جائے گا۔
اینڈی برنہم نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت کی پہلی ترجیح ملک میں بے گھر افراد کے سڑکوں پر سونے کے مسئلے کا خاتمہ ہوگی، جب کہ اس ہفتے مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو فوری ریلیف فراہم کرے گی، تاہم معیشت کو غیر ضروری خطرات سے دوچار نہیں کیا جائے گا۔
خارجہ پالیسی کے حوالے سے اینڈی برنہم نے کہا کہ وہ جلد یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے رابطہ کریں گے اور انہیں یقین دلائیں گے کہ برطانیہ کی حمایت بدستور جاری رہے گی۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ابتدائی رابطہ کرنے کا عندیہ دیا، جب کہ وائٹ ہاؤس نے بعد میں دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کی تصدیق بھی کر دی۔
ادھر سبکدوش ہونے والے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ وزارتِ عظمیٰ ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہی اور انہوں نے اینڈی برنہم کے لیے نیک خواہشات اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
مزید پڑھیں: یمنی حوثیوں کا سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان، کشیدگی میں اضافے کا خدشہ
دوسری جانب اینڈی برنہم نے اپنی کابینہ کی تشکیل کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ سابق وزیر دفاع جان ہیلی کو وزیر خزانہ مقرر کیا گیا ہے، جب کہ سابق وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کو نئی حکومت میں وزیر خارجہ کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ شابانہ محمود کو وزیر داخلہ کے منصب پر برقرار رکھا گیا ہے۔
اینڈی برنہم کو لیبر پارٹی کی جانب سے برطانیہ میں بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت حاصل کرنے والی ریفارم یو کے پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے اہم سیاسی شخصیت قرار دیا جا رہا ہے، جب کہ ان کی حکومت کو غیر قانونی امیگریشن، سست معاشی ترقی اور عوامی خدمات کی بہتری جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔







