امریکی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ شام میں اسرائیلی فوج کی مسلسل موجودگی خطے میں تناؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی قیادت پر زور دیا کہ وہ شام اور لبنان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور کشیدگی میں کمی کے لیے ایسے اقدامات کرے جن سے علاقائی استحکام کو فروغ مل سکے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو اندرونی سیاسی دباؤ اور آئندہ انتخابات کے تناظر میں اہم فیصلوں کا سامنا ہے، جنوبی شام اور جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے اہم ہے اور کسی بھی انخلا کا فیصلہ زمینی صورتحال اور سیکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق لبنان سے متعلق سیکیورٹی معاملات اور فریقین کے درمیان طے پانے والے بعض معاہدے بھی مکمل طور پر عملی شکل اختیار نہیں کر سکے، جس کے باعث خطے میں صورتحال بدستور پیچیدہ ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ شام اور لبنان کے سرحدی علاقوں میں فوجی تعیناتی کا مقصد ممکنہ خطرات کو روکنا اور اسرائیلی علاقوں کو محفوظ بنانا ہے، جبکہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں: معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھر اور پل تباہ کر دیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اسرائیل پر دباؤ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں مختلف محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے اور امریکا خطے میں وسیع تر استحکام کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان قریبی اتحادی تعلقات کے باوجود شام اور لبنان میں فوجی حکمت عملی کے معاملے پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید سفارتی رابطوں کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔







