ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی جارحیت کے نقصانات کو ایران نے بھگتا ہے اور اگر دشمن دوبارہ وہی غلطی دہرائے گا تو اسے ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
مزید پڑھیں: دشمنوں کے خلاف کسی بھی وقت کارروائی کر سکتے ہیں ، اسرائیلی آرمی چیف
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے فکر مند ہے اور ممکنہ نئے حملے کے معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایران پر حملے کے معاملے پر بات کر سکتے ہیں۔
واضع رہے کہ اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زمیر نے بھی ایک بار پھر جارحانہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی افواج کسی بھی وقت اپنے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔






