امریکی نائب صدر نے معروف پوڈکاسٹر جو روگن کے ساتھ گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ، امریکا اور اسرائیل کے تعلقات سمیت مختلف سیاسی موضوعات پر اظہارِ خیال کیا اور کہا کہ اسرائیل امریکا کا ایک اہم اتحادی ہے، تاہم امریکی عوام کی رائے میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے میں کامیاب نہیں رہا، یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ نوجوان ووٹرز سمیت مختلف حلقوں میں اسرائیل سے متعلق رائے پہلے کے مقابلے میں تبدیل ہوئی ہے۔
گفتگو کے دوران میزبان جو روگن نے نائب صدر سے سوال کیا کہ کیا اسرائیل امریکی سیاست پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا ہے؟ اس پر جے ڈی وینس نے جواب دیا کہ دنیا کے بہت سے ممالک اپنے مفادات کے لیے امریکی پالیسی پر اثر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسرائیل بھی انہی ممالک میں شامل ہے، اسرائیل اس حوالے سے نسبتاً زیادہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے، تاہم امریکا کو اپنی خارجہ پالیسی ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دینی چاہیے۔
امریکی نائب صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی اتحادی ملک کے ساتھ تعلقات کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ امریکا اپنی داخلی یا خارجی پالیسی پر آزادانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو دے، امریکی قیادت کو ہر معاملے میں سب سے پہلے امریکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔
دوسری جانب حالیہ عوامی جائزوں اور سرویز میں بھی اسرائیل کے حوالے سے امریکی رائے عامہ میں نمایاں تبدیلی سامنے آئی ہے۔ مارچ میں جاری کیے گئے ایک سروے کے مطابق صرف 32 فیصد امریکی شہری اسرائیل کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں، جبکہ 39 فیصد افراد نے اسرائیل کے بارے میں منفی رائے کا اظہار کیا۔
سروے کے نتائج کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران اسرائیل کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، خصوصاً ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں، آزاد ووٹرز اور نوجوان امریکیوں میں اسرائیل کے لیے حمایت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: "اسرائیل شام اور لبنان میں فوجی موجودگی کم کرے"، صدر ٹرمپ کا نیتن یاہو سے ٹیلیفونک رابطہ
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2013 کے مقابلے میں ڈیموکریٹک ووٹرز میں اسرائیل کی حمایت 34 فیصد سے کم ہو کر 17 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ نوجوان نسل میں غزہ جنگ اور مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے بعد اسرائیل سے متعلق تنقیدی رویے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی عوامی رائے میں آنے والی یہ تبدیلی مستقبل میں امریکا کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی، صدارتی انتخابات اور کانگریس میں اسرائیل سے متعلق فیصلوں پر بھی اثرانداز ہو سکتی ہے، جس پر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔







