غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنتر منتر کے قریب پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، جب کہ متعدد طلبہ منتشر ہوگئے۔
احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ امتحانات میں بار بار سامنے آنے والی بے ضابطگیوں، پرچے لیک ہونے اور تکنیکی مسائل کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد ختم ہوئی، تاہم ان کی حمایت میں شروع ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی تحریک نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اس تحریک نے تعلیمی نظام، امتحانی شفافیت اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر عوامی حمایت حاصل کرلی ہے۔
احتجاج میں شریک طلبہ کا کہنا ہے کہ حکومت ان کے مسائل سننے کے بجائے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔ ایک طالب علم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہماری آواز سنے، ہمیں خاموش نہ کرائے۔
Heartbreaking. Peaceful youth protesters demanding accountability for the exam paper leak were met with a lathi charge from the police.
— noʟᴀn (@krrishnolan) July 20, 2026
What has happened to my country? 💔
. pic.twitter.com/9fVGDOf5Wv
دہلی پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ مظاہرین کو احتجاج اور مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، اسی لیے شہر کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ بھی معطل کیا گیا اور دفعہ 144 کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی گئی۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران بھارت کا امتحانی نظام شدید تنقید کی زد میں رہا ہے۔ تقریباً 22 لاکھ میڈیکل امیدواروں کو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے بعد دوبارہ امتحان دینا پڑا، جب کہ تقریباً 20 لاکھ ہائی اسکول طلبہ کے امتحانات بھی آن لائن مارکنگ سسٹم میں مبینہ بے ضابطگیوں کی وجہ سے تنازع کا شکار رہے۔
خیال رہے کہ انڈیا کی تیز معاشی ترقی کے باوجود نوجوانوں میں بڑھتی بے روزگاری، شفاف روزگار کے مواقع کی کمی اور تعلیمی نظام پر اعتماد میں کمی نے حکومت کے خلاف عوامی غصے کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اگر امتحانی نظام میں اصلاحات اور نوجوانوں کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو یہ احتجاج مستقبل میں مودی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی چیلنج میں تبدیل ہوسکتا ہے۔







