کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ نے نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔ متعدد ارکان نے سیاہ لباس پہن رکھا تھا اور ایسے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ہمارے بچوں کا مستقبل فروخت کے لیے نہیں اور زندگیاں بچاؤ، نیٹ کو روکو جیسے نعرے درج تھے۔
بعد ازاں اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے اندر بھی امتحانی اسکینڈل اور طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس تشدد پر بحث کا مطالبہ کیا، جس کے باعث ایوان کی کارروائی عارضی طور پر معطل کر دی گئی۔
وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا کہنا ہے کہ حکومت اس معاملے اور تعلیمی اصلاحات پر پارلیمنٹ میں بحث کے لیے تیار ہے۔
طلبہ کا احتجاج مختلف شہروں تک پھیل گیا
امتحانی پرچہ لیک کے خلاف گزشتہ ماہ شروع ہونے والا احتجاج اب ملک گیر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ پیر کو نئی دہلی میں ہزاروں طلبہ نے احتجاج کیا، جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج بھی کیا۔
احتجاج صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ ممبئی، بنگلورو، کولکتہ، گوا، گوہاٹی، تھرواننت پورم، جموں اور احمد آباد سمیت کئی شہروں میں بھی مظاہرے کیے گئے۔
راہول گاندھی سمیت اپوزیشن رہنما زیرِ حراست
منگل کو کانگریس پارٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ جانے والے راستے پر دھرنا دیا، جہاں پولیس نے راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی واڈرا اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں انہیں رہا کر دیا گیا۔
وزیر تعلیم کا ردعمل
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت طلبہ کے تمام حقیقی خدشات دور کرنے اور نیٹ امتحان سمیت تعلیمی اصلاحات پر بات چیت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے طلبہ سیاسی مہم کا حصہ بننے کے مستحق نہیں ہیں۔
پس منظر
نیٹ امتحان کے مبینہ پرچہ لیک کے بعد شروع ہونے والا احتجاج اب وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے لیے نوجوانوں کی جانب سے حالیہ برسوں کا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق روزگار کے محدود مواقع، امتحانی نظام پر بڑھتے ہوئے سوالات اور نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی نے اس تحریک کو مزید تقویت دی ہے۔
This is no way to treat the young people of this country. The young people of this country do not have opportunities. All the doors are closed. The only door open is competitive exams, and that too has been destroyed.
— Supriya Shrinate (@SupriyaShrinate) July 21, 2026
These students here are complaining not just about the… pic.twitter.com/M58j0OwnsJ
دریں اثنا، سماجی کارکن سونم وانگچک نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے گزشتہ ماہ بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں اسپتال منتقل کیا، جب کہ عدالتی حکم کے بعد انہیں نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر طلبہ کی یہ تحریک اسی شدت سے جاری رہی تو یہ مودی حکومت کے لیے ایک بڑے سیاسی اور سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔







