برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وزیرِ جنگ نے اچانک جرنیلوں اور ایڈمرلز کو ایک جگہ کیوں جمع کیا ہے، تاہم اس سے متوقع شرکا میں بے یقینی پھیل گئی ہے۔
بعض سینئر فوجی افسر ہزاروں فوجیوں کی کمان کرتے ہیں اور ان کے شیڈول کئی ہفتے پہلے سے طے ہوتے ہیں، جو اس اعلان کے باعث متاثر ہوئے ہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ لوگ اپنی منصوبہ بندی بدلنے اور یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا انہیں اجلاس میں شریک ہونا ہے یا نہیں۔
ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ کتنے افسر شریک ہوں گے، لیکن ماہرین کے مطابق ایک ہی وقت میں اتنے زیادہ سینئر افسران کا ایک کمرے میں ہونا نایاب تصور کیا جاتا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پرنیل نے صرف اتنا کہا کہ وزیرِ جنگ آئندہ ہفتے کے آغاز میں اپنے سینئر فوجی رہنماؤں سے خطاب کریں گے۔ تاہم اس بات پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ اجلاس کا مقصد کیا ہے یا افسران کو اچانک کیوں طلب کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ دفاع کا نام بدل کر “محکمہ جنگ” رکھنے کا حکم دیا ہے جس کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
وائٹ ہاؤس میں نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ اس نوعیت کے اجلاس بالکل غیر معمولی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے فوجی دنیا بھر میں تعینات ہیں، جن کی کمان مختلف رینکس کے جرنیل اور ایڈمرلز کے پاس ہے۔
ایک اور عہدیدار نے کہا کہ یہ معاملہ شاید اتنا ہی معمولی ہو جتنا لوگ سمجھ رہے ہیں، لیکن وضاحت کی کمی افسران کے لیے کسی طور مددگار نہیں۔






