تفصیلات کے مطابق جو کینٹ نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق ایران کے خلاف جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر امریکی لابی کے دباؤ کے نتیجے میں شروع کی گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں جو کینٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ اسرائیلی حکام نے امریکا کو اس تنازع میں شامل کرنے میں کردار ادا کیا اور اس مقصد کے لیے غلط معلومات پر مبنی مہم چلائی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران پر حملے کے حق میں پیش کیے جانے والے دلائل اور فوری کامیابی کے دعوے انہیں 2003 کی عراق جنگ سے قبل کی صورتحال کی یاد دلاتے ہیں۔
After much reflection, I have decided to resign from my position as Director of the National Counterterrorism Center, effective today.
— Joe Kent (@joekent16jan19) March 17, 2026
I cannot in good conscience support the ongoing war in Iran. Iran posed no imminent threat to our nation, and it is clear that we started this… pic.twitter.com/prtu86DpEr
یاد رہے کہ جو کینٹ خود بھی عراق جنگ میں شریک رہ چکے ہیں، جب کہ ان کی اہلیہ شینن کینٹ شام میں ایک کارروائی کے دوران ہلاک ہو گئی تھیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ ایک ایسے شخص کے طور پر جس نے 11 مرتبہ جنگی خدمات انجام دیں اور اپنی اہلیہ کو ایک جنگ میں کھویا، وہ نئی نسل کو ایسی جنگ میں بھیجنے کی حمایت نہیں کر سکتے جو امریکی عوام کے مفاد میں نہ ہو اور جس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں ادا کرنا پڑے۔





