ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
فوجی عہدیدار نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں کو نشانہ بنایا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں، بشمول پلوں، بجلی گھروں اور دیگر تنصیبات، پر حملے کرے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد امریکا کو اب یہ یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہے وہاں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی فوجی ذریعے کے مطابق اگر صدر ٹرمپ نے اس نوعیت کا کوئی خطرناک قدم اٹھایا تو اس کا انجام ایک بار پھر امریکا کے لیے سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا، چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔







