قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ نے ایرانی خبر رساں ادارے میزان کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ خوزستان میں آئی آر جی سی کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کو صوبے کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔

یاد رہے کہ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق امریکا نے مسلسل دوسرے روز ایران کے خلاف کارروائیاں کیں، جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ایرانی حکام سے رابطے میں رہنے اور مقررہ بحری راستہ استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی ثالثی میں 17 جون کو طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کو عملاً ختم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اب مؤثر نہیں رہا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ آئی آر جی سی کے مطابق امریکی حملوں میں ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور مشہد جانے والے دو اہم پلوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد ایرانی بحری اور فضائی افواج نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کویت میں عریفجان اور علی السالم، جب کہ بحرین میں الجفیر اور شیخ عیسیٰ کے امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کا مقصد آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے عالمی توجہ ہٹانا تھا۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائی کی گئی تو خطے میں موجود دیگر امریکی اڈے بھی ایرانی ردعمل کی زد میں آ سکتے ہیں۔

تاہم ایران کی جانب سے امریکی اڈوں پر حملوں اور خوزستان میں ہونے والے نقصانات کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جب کہ امریکی حکام نے بھی تاحال ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔