امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصروف ترین تعطیلاتی سیزن کے دوران، جب ہزاروں افراد سڑکوں اور ہوائی اڈوں کا رخ کر رہے تھے، برفانی طوفان کے باعث ایک ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔

نیویارک شہر میں جمعے کی شب سے سنیچر کی صبح تک تقریباً چار انچ برف باری ریکارڈ کی گئی۔ اگرچہ یہ مقدار پیش گوئی سے کم تھی، تاہم اس کے باعث فضائی اور زمینی سفر میں نمایاں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے کی رات سے اب تک کم از کم 1500 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، تاہم سنیچر کی صبح سے صورتحال میں بتدریج بہتری آنا شروع ہو گئی۔

امریکہ کی نیشنل ویدر سروس کے ماہر باب اوراویک کا کہنا ہے کہ طوفان اب آہستہ آہستہ کمزور پڑ رہا ہے، تاہم شمال مشرق کے بعض حصوں میں اب بھی ہلکی برف باری جاری ہے۔ ان کے مطابق یہ طوفان شمال مغرب سے جنوب مشرق کی جانب بڑھا، جس کے دوران نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ میں چھ انچ جبکہ کیٹسکلز کے پہاڑی علاقوں میں دس انچ تک برف پڑی۔

نیوارک، جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاگارڈیا ایئرپورٹ جیسے بڑے ہوائی اڈوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے مسافروں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ خراب موسم پروازوں کے شیڈول کو متاثر کر سکتا ہے۔

حکام نے گریٹ لیکس سے لے کر جنوبی نیو انگلینڈ تک کے علاقوں میں درخت گرنے اور بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔ نیویارک کے مشہور ٹائمز اسکوائر میں میونسپل ورکرز سرخ لباس میں بیلچوں اور سنو بلورز کے ذریعے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی صفائی کرتے دکھائی دیے، جبکہ وہاں موجود سیاح اس منظر سے لطف اندوز ہوتے رہے۔

نارتھ کیرولائنا سے تعلق رکھنے والی جنیفر یوکلی نے عمارتوں اور درختوں پر جمی برف کو نہایت خوبصورت قرار دیا، جبکہ ویسٹ ورجینیا سے اپنی شادی کی تیسری سالگرہ منانے آنے والے ایک جوڑے کے لیے یہ برف باری ایک غیر متوقع تحفہ ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ سردی شدید ہے، مگر انتظامیہ سڑکوں پر نمک چھڑک کر انہیں بحال کرنے کے لیے متحرک ہے۔

طوفان کی شدت کے پیش نظر نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل اور نیو جرسی کی قائم مقام گورنر تاہیشا وے نے اپنی ریاستوں کے بڑے حصوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی تاکہ امدادی ٹیمیں بلا تعطل سڑکوں کی صفائی کا کام جاری رکھ سکیں۔

دوسری جانب ملک کے مغربی حصے میں واقع ریاست کیلیفورنیا میں صورتحال مختلف رہی، جہاں شدید بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ کرسمس کے موقع پر پہاڑی علاقوں میں 18 انچ تک بارش ریکارڈ کی گئی، جس سے لاس اینجلس کے قریب واقع پہاڑی قصبے رائٹ ووڈ میں گھروں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی سڑکیں ملبے تلے دب گئیں۔

امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے ہفتے بارشوں کی واپسی سے قبل کیلیفورنیا کو سانتا اینا نامی تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ ان ہواؤں کے باعث کمزور درخت گرنے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔