امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) کے مطابق مختلف ممالک کے تجارتی طریقہ کار کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ بعض شراکت دار ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد روکنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کر رہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیقات کے دوران 54 ممالک ایسے سامنے آئے جہاں جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات مکمل طور پر نافذ نہیں کیے گئے، جبکہ پاکستان سمیت چند دیگر ممالک کے حوالے سے کہا گیا کہ موجودہ قوانین پر عملدرآمد کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے
امریکی حکام کے مطابق پاکستان سمیت بعض ممالک سے آنے والی درآمدی اشیا پر 10 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز ہے، جبکہ دیگر متعدد ممالک پر 12.5 فیصد تک ڈیوٹی لگانے کا منصوبہ ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر کا کہنا ہے کہ اہم تجارتی شراکت دار ممالک کی جانب سے جبری مشقت کے مسئلے پر مؤثر اقدامات نہ کرنا امریکی کارکنوں کے لیے غیر منصفانہ مسابقت کا باعث بنتا ہے، اس لیے تجارتی پالیسی کے ذریعے دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق نئی ٹیرف پالیسی کے تحت مختلف ممالک کی مصنوعات کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کچھ ضروری اشیا کو استثنیٰ بھی دیا گیا ہے۔ ان اشیا میں بعض غذائی مصنوعات، بیف، کافی، مخصوص پھل، خشک میوہ جات اور دیگر منتخب درآمدی اشیا شامل ہیں۔
اس کے علاوہ شمالی امریکا کے تجارتی معاہدے کے تحت کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی کچھ مصنوعات کو بھی نئے اقدامات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی حکومت نے مجوزہ ٹیرف پالیسی پر عوام، صنعتوں اور متعلقہ فریقوں سے تحریری آراء طلب کرلی ہیں، جس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا اور حتمی فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اپنی عالمی تجارتی پالیسیوں میں مزید سختی لا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پہلے بھی مختلف ممالک کی مصنوعات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی پالیسی اختیار کر چکی ہے، جس پر کئی ممالک کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ بعض ممالک نے امریکی اقدام کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات امریکی مارکیٹ میں منصفانہ تجارت اور کارکنوں کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ نئے امریکی ٹیرف سے متاثرہ ممالک کی برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، زرعی مصنوعات اور دیگر شعبوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ کئی ممالک اس فیصلے پر سفارتی اور تجارتی سطح پر ردعمل دینے کی تیاری کر رہے ہیں۔







