غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے مبینہ واقعات کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہوئے تیل کی فروخت سے متعلق دی گئی عارضی رعایت محدود کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت پہلے ایران کو 21 اگست تک خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دی تھی، تاہم امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری نئے فیصلے کے بعد اس رعایتی مدت کو کم کرکے 17 جولائی تک محدود کر دیا گیا ہے۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ خطے میں حالیہ کشیدگی اور بین الاقوامی بحری تجارت کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایران سے متعلق پابندیوں کے نظام میں دوبارہ سختی ضروری سمجھی گئی ہے۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عالمی آبی گزرگاہوں میں تجارتی سرگرمیوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھے گی۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ نئی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی روح کے منافی ہیں، امریکا نے اپنے وعدوں سے انحراف کیا ہے اور موجودہ صورتحال کی مکمل ذمہ داری بھی واشنگٹن پر عائد ہوتی ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنے قومی مفادات، اقتصادی حقوق اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر مناسب اور ضروری اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، امریکی اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، قشم جزیرے اور بندرعباس میں دھماکے: ایرانی میڈیا

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا نے محدود شرائط کے تحت ایران کو خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمد کی عارضی اجازت دی تھی، جسے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں ممکنہ کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔ تاہم نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

واضح رہے کہ  امریکی فیصلے کے اثرات نہ صرف ایران کی تیل کی برآمدات بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، خلیجی خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ آئندہ چند روز میں دونوں ممالک کے سفارتی اور سیاسی بیانات صورتحال کی سمت کا تعین کریں گے۔