ٹیلی گراف اور واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرنے کے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، تاہم ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ میزائلوں کے محدود ذخائر بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہمارے پاس اتنے میزائل نہیں کہ محفوظ انداز میں طویل عرصے تک فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکیں، اور میرا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس صورتحال کا مکمل اندازہ نہیں۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران میں مسلسل نویں رات بھی حملے جاری رکھنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد ایران کی ان عسکری صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ حملوں میں تبریز، بندر ماہشہر، بندر امام خمینی، چابہار اور کنارک سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، اردن اور شام میں اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ بحرین نے کہا ہے کہ ایرانی حملے میں اس کے فضائی نیویگیشن نظام کو نقصان پہنچا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران ایک مرتبہ پھر امریکا کے ساتھ مکمل جنگ کی صورتحال میں داخل ہو چکا ہے اور واشنگٹن کو اس کے نتائج قبول کرنا ہوں گے۔

اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے، تاہم سفارتی کوششیں بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مختلف ثالث ممالک کی جانب سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لیے تجاویز کا تبادلہ جاری ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں دو ہلاک اہلکاروں کی شناخت فرسٹ لیفٹیننٹ ٹائلر جیمز فیہان اور پرائیویٹ ازابیلا گونزالیز کے ناموں سے کی ہے، جبکہ ایک اور امریکی فوجی شمالی عراق میں ایرانی ڈرون کے غیر پھٹے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہوا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے اپنے فوجیوں کے اعزاز میں ایران کو انتہائی سخت جواب دیا ہے۔

دریں اثنا نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

تاہم امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا وائٹ ہاؤس نے تاحال باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ امریکا کے میزائل ذخائر اس حد تک کم ہو چکے ہیں کہ وہ ایران کے خلاف طویل جنگ جاری نہ رکھ سکے۔