امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے خلاف "فیصلہ کن اور طاقتور کارروائی" شروع کر دی ہے، اس آپریشن کا مقصد بین الاقوامی سمندری راستوں پر تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ایرانی حملوں کا جواب دینا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہے۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد کی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم اس آبی راستے میں شہری جہازوں پر حملے ناقابل قبول ہیں اور ان کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ضروری سمجھی گئی۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق فضائی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹمز، اینٹی شپ کروز میزائل تنصیبات اور ڈرون لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ کارروائی صرف فوجی اہداف تک محدود رکھی گئی تاکہ شہری آبادی کو کم سے کم نقصان پہنچے۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا نے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ بندر عباس، قشم جزیرے اور سرک کے علاقوں میں فضائی حملوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور آسمان پر دھوئیں کے گھنے بادل دیکھے گئے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس میں ایک فشنگ بندرگاہ کو حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ماہی گیروں کی کشتیاں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ ابتدائی اطلاعات میں مالی نقصان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سرک کے کمرشل پائر کے قریب ہونے والے حملے کے دوران میزائل کے ٹکڑے گرنے سے متعدد افراد زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کی حتمی تعداد کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر حملہ، سعودی عرب نے ایران پر الزام عائد کر دیا

ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران میں حملوں کے بعد ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنا عراق کا دورہ مختصر کرتے ہوئے فوری طور پر وطن واپسی کا فیصلہ کیا تاکہ ملکی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

امریکی اور ایرانی حکام کی جانب سے ایک دوسرے کے مؤقف پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،  اگر صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو اس کے اثرات خلیجی خطے، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی بحری تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ تاحال دونوں ممالک کی جانب سے حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی مکمل اور آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، جبکہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔