فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت اور تعمیری مذاکرات کا خواہاں ہے، بشرطیکہ تہران اپنے وعدوں پر عمل کرے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران سنجیدہ ہے تو امریکا بھی سنجیدہ ہے، لیکن اگر ایسا نہیں تو ہم اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کریں گے۔
مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز پر ایران کے ممکنہ کنٹرول کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے محصولات وصول کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسی مثال قائم ہوئی تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا کے دیگر خطوں میں بھی بحری تجارت اور بین الاقوامی قوانین کے لیے خطرناک نظیر بنے گی۔ بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے اور اسے کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے لیے آسیان ممالک کے ساتھ تعلقات قومی مفاد کا حصہ ہیں اور امریکا و جنوب مشرقی ایشیا کی سلامتی اور خوشحالی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا سے جنگ اس وقت ختم ہوگی جب میدان میں برتری حاصل ہوگی، ایرانی وزیر خارجہ
ان کا کہنا تھا کہ اکیسویں صدی کی عالمی سیاست اور معیشت کا مستقبل بڑی حد تک اسی خطے میں ہونے والے واقعات سے طے ہوگا۔
خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکی حملوں کا سلسلہ مسلسل گیارہویں رات بھی جاری رہا اور ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کی نطنز جوہری تنصیب کو جلد دوبارہ نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، جب کہ ایران نے ایسے کسی بھی حملے کا جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی فوجی کمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو اسے خطے میں جنگ کا دائرہ وسیع کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا، جس کے بعد امریکا، اس کے اتحادیوں اور حمایتیوں کے مفادات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر ایران کی وزارت صحت کے ایک عہدیدار کے مطابق حالیہ امریکی حملوں میں 50 افراد جاں بحق جب کہ 500 زخمی ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔







