اسی پیش رفت کو بعض رپورٹس میں اسلام آباد میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ یا اسلام آباد معاہدہ کہا جا رہا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک اہم نکتہ بھی سامنے آ رہا ہے کہ یہ معاملہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔
بعض رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اسے ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھ رہی ہے جس میں بنیادی اہداف تو طے پا گئے ہیں، مگر آخری سیاسی اور تکنیکی منظوری ابھی باقی ہے۔
ایرانی حکام بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ بات بہت آگے بڑھ چکی ہے، مگر حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
معاہدے میں کیا طے کیا جا رہا ہے؟
رپورٹس کے مطابق اسلام آباد معاہدہ صرف جنگ بندی تک محدود نہیں۔ اس میں سب سے پہلے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی، بعض پابندیوں میں نرمی اور بعد کے مرحلے میں ایران کے جوہری پروگرام پر الگ اور تفصیلی مذاکرات کی بات ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق بات ایک پرفارمنس بیسڈ سمجھوتے کی طرف بڑھ رہی ہے، یعنی معاشی فائدہ ایران کو صرف اس صورت ملے گا جب وہ اپنے وعدے پورے کرے گا۔
اسی ڈرافٹ میں ایک اور حساس نکتہ بھی موجود ہے، امریکی فریق چاہتا ہے کہ ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو ختم یا منتقل کیا جائے۔
اس کے برعکس ایرانی مؤقف یہ ہے کہ اسے مکمل طور پر چھوڑنے کے بجائے کسی کم درجے یا ڈیلیوٹڈ شکل میں رکھا جائے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں اب بھی سب سے زیادہ اختلاف موجود ہے۔
ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 اور 12 جون کے درمیان اس معاملے کو تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے دکھایا۔ ایک روز قبل انہوں نے کہا تھا کہ ایران سے متعلق ایک “strong memorandum of understanding” موجود ہے، اگرچہ اسے انہوں نے کسی حد تک “conceptual” بھی کہا۔
بعد میں انہوں نے ایرانی میڈیا میں چھپنے والی بعض ممکنہ شرائط کو سختی سے رد کرتے ہوئے کہا کہ لیک کی گئی تفصیلات اور طے شدہ متن میں کوئی مماثلت نہیں۔
وائٹ ہاؤس اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی یہی مؤقف دہرایا کہ ایران کو فوری معاشی فائدہ صرف اسی صورت ملے گا جب وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن اس معاہدے کو رعایت نہیں بلکہ ایک مشروط ڈیل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ایران کیوں محتاط ہے؟
ایران کی طرف سے بھی لہجہ نرم ضرور ہوا ہے، مگر احتیاط برقرار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 12 جون کو کہا کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ “never been closer” ہے۔
اس کے باوجود ایرانی وزارتِ خارجہ اور دیگر سرکاری حلقوں نے واضح کیا کہ اندرونی مشاورت جاری ہے اور کوئی آخری فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
دوسرے لفظوں میں تہران مذاکرات کے قریب ہے، مگر مکمل ہاں ابھی نہیں کہی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ معاہدے کی زبان سے زیادہ اہم اس کی عملداری بن گئی ہے۔
ایران پابندیوں کے خاتمے، منجمد رقوم کی بحالی، اور خطے میں عسکری دباؤ کے خاتمے کو اپنی بنیادی شرط سمجھ رہا ہے۔ اسی توازن کے بغیر تہران کے لیے کسی بھی ڈیل کو حتمی شکل دینا آسان نہیں ہوگا۔
یہ تنازع شروع کیسے ہوا؟
یہ کہانی اچانک شروع نہیں ہوئی۔ 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد ایران-امریکا کشیدگی نے باقاعدہ جنگی صورت اختیار کر لی۔
اس حملے کے بعد ایران میں خوف پھیل گیا، شہری نقل مکانی کرنے لگے اور خطہ ایک وسیع بحران میں داخل ہو گیا۔ اس جنگ نے نہ صرف علاقائی سلامتی کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ عالمی توانائی منڈیوں کو بھی فوری جھٹکا دیا۔
مارچ میں یہ محاذ مزید پھیل گیا۔ حوثیوں کی شمولیت، اسرائیل پر حملے، مشرق وسطیٰ میں اضافی امریکی فوج کی تعیناتی، اور لبنان و خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس تنازع کو ایک مقامی جھڑپ کے بجائے علاقائی جنگ میں بدل دیا۔
اسی دور میں تیل و گیس کی سپلائی، شپنگ روٹس اور عالمی قیمتوں پر دباؤ تیزی سے بڑھا۔
پاکستان اس بیچ میں کیسے آیا؟
اپریل میں پاکستان اس سفارتی سرگرمی کا مرکز بنا۔ 24 اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے تاکہ امریکا کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر بات ہو سکے۔
اسی مرحلے پر امریکی نمائندوں کے ساتھ پسِ پردہ رابطوں کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ اس وقت آبنائے ہرمز بند تھی، ایرانی تیل کی برآمدات متاثر تھیں اور عالمی منڈی میں پٹرول و توانائی کی قیمتوں پر دباؤ برقرار تھا۔
پاکستان کی شمولیت نے اس معاملے کو ایک نئی سفارتی جہت دی۔ اسلام آباد نہ صرف ایک رابطہ کار کے طور پر ابھرا بلکہ ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر بھی سامنے آیا جہاں دونوں فریق مذاکراتی زبان میں واپس آ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسی مجوزہ ڈیل کو “اسلام آباد معاہدہ” کہا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اتنی اہم ہے؟
اس پورے معاملے کا سب سے بڑا اقتصادی اور اسٹریٹجک نکتہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہی راستہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے سب سے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
جنگ کے دوران اس راستے پر دباؤ نے توانائی مارکیٹوں کو غیر مستحکم کیا، شپنگ انشورنس مہنگی ہوئی اور عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہوئے۔
اب مجوزہ معاہدہ اسی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی بات کر رہا ہے۔ اگر یہ شق عملی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کا مطلب صرف ایک بحری راستے کی بحالی نہیں ہوگا، بلکہ توانائی کی قیمتوں میں کچھ کمی، رسد میں بہتری اور عالمی مارکیٹ میں وقتی سکون بھی ممکن ہوگا۔
اب تک کیا ہو چکا ہے؟
مئی میں ٹرمپ نے دباؤ اور بڑھا دیا۔ 20 مئی کو انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر نہ مانا تو امریکا مزید حملوں کے لیے تیار ہے، اور صورتِ حال “right on the borderline” ہے۔
اس کے بعد جون کے آغاز میں بھی کشیدگی کم نہ ہوئی۔ حملے، جوابی کارروائیاں اور مختصر وقفوں کی جنگ بندی نے سفارت کاری کو مسلسل غیر یقینی حالت میں رکھا۔
8 جون کے بعد بھی منظر نامہ پرسکون نہیں ہوا۔ وقتی جنگ بندی کی باتیں تو ہوئیں، مگر لبنان میں حزب اللہ اور دیگر محاذوں پر تناؤ برقرار رہا۔
9 اور 10 جون کو بھی امریکی اور ایرانی اقدامات کے باعث صورتِ حال مزید الجھتی رہی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مذاکرات ایک طرف اور میدانِ جنگ دوسری طرف، دونوں ایک ساتھ چلتے رہے۔
US Vice President JD Vance has landed in Pakistan for talks with Iranian officials on a deal to end the US-Israeli war on Iran. pic.twitter.com/qcvMyhBrPK
— Al Jazeera English (@AJEnglish) April 11, 2026
اب کیا ہوسکتا ہے؟
اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو پہلا مرحلہ جنگ بندی کو پائیدار بنانا، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ایران کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دینا ہوگا۔
اس کے بعد جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم اور پابندیوں میں نرمی جیسے بڑے اور حساس معاملات پر الگ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔
بعض رپورٹس کے مطابق یہ اگلا مرحلہ 60 دن کے اندر آ سکتا ہے۔ لیکن اگر آخری لمحے پر اختلاف بڑھ گیا تو یہ مسودہ ایک تاریخی امن فریم ورک کے بجائے ایک اور طویل سفارتی بحران میں بدل سکتا ہے۔
سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ایران اپنی ریڈ لائنز پر اصرار کرے اور امریکا فوری رعایت دینے سے گریز کرے۔ اسی لیے یہ معاہدہ اس وقت ایک ڈرافٹ بھی ہے، سیاسی اشارہ بھی، اور ایک نازک امتحان بھی۔
اس معاہدے کی اصل اہمیت کیا ہے؟
اگر یہ ڈیل کامیاب ہوئی تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔ توانائی کی منڈی، عالمی تجارت، خلیجی سلامتی، لبنان کی صورتحال اور حتیٰ کہ عالمی معیشت بھی اس سے متاثر ہوگی۔
مارچ اور اپریل کی رپورٹس پہلے ہی دکھا چکی تھیں کہ اس جنگ نے سپلائی چین، تیل کی قیمتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ اسی لیے اسلام آباد معاہدہ محض سفارتی خبر نہیں، بلکہ عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
اس وقت تصویر یہ ہے کہ شہباز شریف اسے حتمی متن کہہ رہے ہیں، ٹرمپ اسے مشروط اور performance-based ڈیل بنا رہے ہیں اور ایران اسے قریب مگر ابھی غیر حتمی سمجھ رہا ہے۔
یہی تین زاویے بتاتے ہیں کہ معاہدہ قریب ضرور ہے، مگر ابھی آخری دستخط، عملدرآمد اور زمینی اعتماد ہی اصل فیصلہ کریں گے۔





