ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے ذریعے ایران کو پہنچایا گیا ہے، جہاں امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہونے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس ہفتے بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم ایران نے بار بار ان مذاکرات کی تردید کی ہے اور ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اپنے آپ سے مذاکرات کر رہا ہے۔
امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے، جب مذاکرات جاری تھے۔ اس جنگ نے عالمی توانائی اور اسٹاک مارکیٹ میں ہلچل پیدا کی، شپنگ کو متاثر کیا اور مشرق وسطیٰ میں جانی و مالی نقصان ہوا۔
ایرانی وزارت صحت کے مطابق اب تک ایران میں 1500 افراد شہید اور 18551 زخمی ہو چکے ہیں۔ حالیہ جنگ کے چند دن بعد ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو شپنگ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
تاہم اب صرف چند منظور شدہ جہازوں کو گذرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جن میں زیادہ تر انڈین، پاکستانی اور چینی پرچم والے جہاز شامل ہیں۔
ایران کی جانب سے امریکی فوجی اہداف اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر حملوں کے باعث تیل کی قیمت 65 ڈالرز سے بڑھ کر 100 ڈالرز فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے پندرہ نکاتی منصوبے کے منظر عام پر آنے کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ہلکی بہتری اور تیل کی قیمت میں معمولی کمی ہوئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک واضح نہیں کہ حقیقی مذاکرات ہو رہے ہیں یا نہیں اور اگر ہو بھی رہے ہیں تو کیا دونوں فریق اپنی جنگ بندی کی شرائط پر متفق ہو سکیں گے۔
امریکی پندرہ نکاتی منصوبے کے اہم نکات:
اطلاعات کے مطابق منصوبے میں شامل اقدامات درج ذیل ہیں:
- ایک ماہ کی جنگ بندی
- ایران کی نیوکلیئر تنصیبات بشمول نطنز، اصفہان اور فورڈو کی بندش
- ایران کا مستقل عہد کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا
- ایران کی موجودہ افزودہ یورینیم کی بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے حوالے اور آئی اے ای اے کے نگرانی کی ضمانت
- میزائل کی تعداد اور حد میں پابندی
- علاقائی عسکری گروہوں کی حمایت ختم کرنا
- ایرانی حملوں کو خطے میں توانائی کے وسائل پر روکنا
- آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنا
- ایران پر عائد تمام پابندیوں کو ختم کرنا
- ایران کے جوہری پلانٹ بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے امریکی مدد فراہم کرنا
اس دوران اسرائیل نے پردے کے پیچھے اس منصوبے کی حمایت کی ہے، لیکن وہ اس بات پر فکر مند ہے کہ صدر ٹرمپ مذاکرات میں کس حد تک رعایت کریں گے۔
امریکا کے مطالبات میں تبدیلی:
ایران کے نیوکلیئر پروگرام سے متعلق مطالبات وہی ہیں جو پہلے تھے۔ تاہم گزشتہ سال جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ کے دوران امریکہ نے نطنز، اصفہان اور فورڈو میں جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔
اس کے علاوہ اب امریکہ کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایران کو پابندیوں اور کنٹرول کے تحت مذاکرات پر لانا ہے۔
ایران کا ردعمل:
ایران کے عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایران کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکتی، کیونکہ گزشتہ دو سال میں جاری مذاکرات کے دوران امریکا نے ایران پر دو بار حملے کیے ہیں۔
ایرانی فوجی ترجمان نے کہا كہ کیا آپ اپنے آپ سے مذاکرات کر رہے ہیں؟ ہم جیسے لوگ کبھی آپ جیسے لوگوں کے ساتھ نہیں چل سکتے۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے اپنی شرائط بھی واضح کی ہیں کہ جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کرنا، معاوضہ دینا اور مستقبل میں حملوں سے بچاؤ کے بین الاقوامی ضمانتیں فراہم کرنا ہے۔
ایران نے اس کے ساتھ تمام پابندیوں کو ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے اور علاقے میں امریکی فوجی اڈوں کو بند کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
کیا مذاکرات ممکن ہیں؟
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران محدود سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ غیر رسمی ذرائع کے مطابق ایران تیار ہے کہ وہ اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے استعمال کا حق حاصل رہے گا، لیکن پابندیاں ختم ہونی چاہئیں۔
ماہرین اقتصادیات اور سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے امکانات تقریباً ساٹھ فیصد ہیں، کیونکہ جنگ کی لاگت سب کے لیے زیادہ ہے اور ٹرمپ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ جنگ ختم کرے۔ ایران بھی خطے کے پڑوسی ممالک کے دباؤ میں ہے کہ وہ حملے بند کرے۔
فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی راہ میں سخت شرائط اور گہرے اختلافات موجود ہیں، جس کی وجہ سے فوری معاہدے کے امکانات غیر یقینی ہیں، اگرچہ غیر رسمی رابطے اور تجاویز کا تبادلہ ہو رہا ہے۔ اگر دونوں فریق بنیادی اختلافات پر رعایت دیں تو مذاکرات کا امکان مضبوط ہو سکتا ہے۔






