غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو آئندہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد ایک امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک ضرور جائیں گے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اگر مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی تو میرے گرد خصوصی دستے موجود ہوں گے۔

تاہم نیتن یاہو نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان خصوصی دستوں کا کردار کیا ہوگا، البتہ انہوں نے کہا کہ وہ اپنا نیویارک کا دورہ منسوخ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ ذرائع ابلاغ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔

دی اکانومسٹ اور یوگوو کے حالیہ سروے کے مطابق 49 فیصد امریکی بالغ افراد کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کو نیویارک آمد پر آئی سی سی کے وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جانا چاہیے، جبکہ 27 فیصد نے اس کی مخالفت کی اور 23 فیصد نے کوئی واضح رائے نہیں دی۔

نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر یہودیوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہر کی یہودی آبادی کے خلاف فضا بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے آئی سی سی کے وارنٹ گرفتاری کو بھی مسترد کرتے ہوئے عدالت کو بدعنوان اور برائی پر مبنی ادارہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ مستقبل میں اسی نوعیت کی کارروائیاں امریکی حکام اور فوجیوں کے خلاف بھی استعمال کی جا سکتی ہیں۔

علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر اس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اسے زبردست طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، معاہدہ ابراہیمی کو سعودی عرب تک وسعت دینے کا خیر مقدم کرے گا۔