امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز مزارِ شریف کے قریب 28 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ مزارِ شریف کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ تئیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔
صوبہ سمنگان کے محکمہ صحت کے ترجمان سمیم جویندہ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک سات اموات اور 150 زخمیوں کی رپورٹ موصول ہوئی ہے، اور یہ اعداد و شمار پیر کی صبح تک ہسپتالوں سے ملنے والی ابتدائی اطلاعات پر مبنی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے پیجر نظام نے اس زلزلے کے لیے نارنجی الرٹ جاری کیا، جو ایک خودکار نظام ہے اور زلزلے کے اثرات سے متعلق ابتدائی اندازے فراہم کرتا ہے۔ الرٹ میں کہا گیا کہ نمایاں جانی نقصان کا خدشہ ہے اور یہ آفت ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے۔ ایسے الرٹس والے ماضی کے زلزلے عام طور پر علاقائی یا قومی سطح کے ہنگامی ردعمل کا تقاضا کرتے ہیں۔
صوبہ بلخ کے ترجمان حاجی زید نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکوں سے مزارِ شریف کے ایک مقدس مقبرے کا حصہ منہدم ہو گیا۔
ملکی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ نقصانات اور ہلاکتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، جبکہ رائٹرز آزادانہ طور پر نقصان کی حد کی تصدیق نہیں کر سکا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوششوں اور عمارتوں کے ٹوٹے ہوئے حصوں کی ویڈیوز و تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔ ایک ویڈیو میں امدادی کارکنوں کو ملبے سے لاشیں نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم ان مناظر کی تصدیق نہیں کی جا سکی۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست میں افغانستان میں آنے والے زلزلوں کے ایک سلسلے کے باعث طالبان انتظامیہ کے مطابق ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ افغانستان زلزلوں کے لیے خاص طور پر حساس ملک ہے کیونکہ یہ دو بڑی فعال فالٹ لائنز پر واقع ہے جو کسی بھی وقت حرکت میں آ کر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتی ہیں۔
2015 میں شمال مشرقی افغانستان میں آنے والے زلزلے نے افغانستان اور پاکستان میں سیکڑوں افراد کی جان لی تھی، جبکہ 2023 میں ایک اور زلزلے میں کم از کم ایک ہزار افراد جاں بحق ہوئے تھے۔






