بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی Kpler کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 23 جولائی کو صرف ایک خام تیل بردار ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جبکہ اس سے ایک روز قبل تین ٹینکر اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرے تھے۔ یہ تعداد 7 مئی کے بعد پہلی بار اتنی کم ریکارڈ کی گئی ہے

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 جولائی کو کوئی بھی نیا بحری جہاز آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہوا، جسے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے غیر معمولی صورتحال قرار دیا جا رہا ہے،  اس کمی کی بنیادی وجہ خطے میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات، فوجی کشیدگی اور جہاز رانی کے لیے خطرات ہیں، جن کے باعث کئی شپنگ کمپنیاں متبادل راستے اختیار کر رہی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اس روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والا واحد بحری جہاز نیو جائنٹ نامی ایک بہت بڑا خام تیل بردار سپر ٹینکر تھا، جو تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی بصرہ خام تیل لے کر چین کی بندرگاہ ریزاؤ کی جانب روانہ ہوا۔ اس ٹینکر کی منزل اگست کے وسط میں چین پہنچنے کی توقع ہے۔

یاد رہے  کہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کم ہونے سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ  خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔

دوسری جانب آبنائے باب المندب میں بحری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ Kpler کے مطابق 23 جولائی کو اس آبی راستے سے مجموعی طور پر 32 کموڈٹی ٹینکر گزرے، جبکہ ایک روز قبل یہ تعداد 26 تھی۔

اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 14 ٹینکر بحیرہ احمر کی جانب روانہ ہوئے، جبکہ 18 ٹینکر آبنائے باب المندب عبور کرکے خلیج عدن کی سمت گئے۔ ان 18 ٹینکروں میں سے 9 خام تیل لے جا رہے تھے، جن میں چین جانے والے دو بڑے سپر ٹینکر بھی شامل تھے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بعض بحری کمپنیاں حفاظتی خدشات کے باعث اپنے جہازوں کا رخ باب المندب کے بجائے نہر سویز کی جانب موڑ رہی ہیں۔ ایک نیفتھا بردار ٹینکر نے بھی ایشیا کا روایتی راستہ اختیار کرنے کے بجائے نہر سویز کا انتخاب کیا، حالانکہ اس متبادل راستے سے سفر کا دورانیہ تقریباً تین گنا بڑھ جاتا ہے۔

علاقائی تجارتی ذرائع کے مطابق بحری راستوں میں تبدیلی سے شپنگ لاگت، انشورنس اخراجات اور ترسیل کے اوقات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تجارتی سرگرمیوں اور توانائی کی سپلائی چین پر بھی مرتب ہونے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی

ادھر سعودی آرامکو نے بھی بحیرہ احمر کی بندرگاہوں پر ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ سیدی کیر کے ذریعے اضافی خام تیل کی ترسیل کا متبادل انتظام شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی منڈیوں کو تیل کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

واضح ر ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی تیل کی منڈی، بحری تجارت اور بین الاقوامی سپلائی چین کو مزید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔