اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق ہلاک ہونے والا شخص آئل ٹینکر مومباسا بی کے عملے کا رکن تھا، جبکہ زخمی ہونے والے افراد میں 6 بھارتی اور 2 یوکرینی شہری شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے 4 افراد کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات کی شپنگ کمپنی ADNOC L&S نے بھی تصدیق کی ہے کہ خام تیل لے جانے والے بحری جہاز مومباسا بی اور البہیہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران متاثر ہوئے۔ کمپنی کے مطابق دونوں جہازوں کو نقصان پہنچا، تاہم عملے کی حفاظت اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کیے گئے۔
اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد سمندری راستے کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ متاثرہ بحری جہازوں کے حوالے سے ضروری کارروائیاں جاری ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے جہاں سے بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
دوسری جانب بھارت کی وزارتِ خارجہ نے واقعے کے بعد ایران کے نائب سفیر کو نئی دہلی میں طلب کیا ہے، اپنے شہری کی ہلاکت اور دیگر زخمی افراد کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے بھی آبنائے ہرمز میں کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو بڑے آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، ان جہازوں نے متعدد انتباہات کو نظر انداز کیا، نیوی گیشن نظام بند کیے اور ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کی جسے ایرانی حکام نے خطرناک قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ درست کہتے ہیں، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ فراہم کرنے والے کو معاوضہ ملنا چاہیے، عباس عراقچی
تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیان میں متاثرہ جہازوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ آیا یہ وہی بحری جہاز ہیں جن کا ذکر متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے کیا ہے۔
واقعے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ عالمی سطح پر آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور تیل کی ترسیل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مختلف ممالک صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔







