کرس رائٹ نے امریکی ٹی وی چینل سی این بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل جلد شروع کر دیا جائے گا، لیکن فی الحال ایسا ممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہماری تمام فوجی صلاحیتیں ایران کی جارحانہ صلاحیتوں اور اس کی فوجی صنعت کو تباہ کرنے پر مرکوز ہیں۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ رواں ماہ کے اختتام تک بحری جہازوں کو عسکری تحفظ فراہم کرنے کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کرس رائٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عراق کے قریب دو بحری جہازوں پر حملوں کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا، جب کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئیں۔
The US military is currently “not ready” to escort tankers through the critical Strait of Hormuz because all its assets are focused on striking Iran, Energy Secretary Chris Wright says. pic.twitter.com/5sF5KanTst
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) March 12, 2026
ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحری جہازوں کو تحفظ فراہم کرنے اور ان کے لیے انشورنس سہولیات دینے کی پیشکش کر کے مارکیٹ کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم اب تک کسی بحری جہاز کو عملی طور پر امریکی عسکری نگرانی فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ جاری جنگ عالمی تیل کی منڈی کی تاریخ میں سپلائی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کے خام تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے، عملی طور پر بند ہونے کے باعث عالمی سپلائی میں تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادارے کے مطابق ان حالات کے پیش نظر امریکہ سمیت رکن ممالک نے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جسے اب تک کا سب سے بڑا ریلیف آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔





