اقوام متحدہ کی عالمی شہری ہوابازی تنظیم کی تین سالہ جنرل اسمبلی کینیڈا کے شہر مونٹریال میں شروع ہو گئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں یورپ کے متعدد بڑے ہوائی اڈوں پر سائبر حملے ہوئے جن سے چیک ان اور بورڈنگ کے نظام متاثر ہوئے۔
اس کے نتیجے میں پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور کچھ منسوخ بھی ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے یہ واضح کیا ہے کہ ہوابازی کے شعبے میں ٹیکنالوجی پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باوجود سیکیورٹی کے پہلو پر مزید توجہ درکار ہے۔
اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب روس اور شمالی کوریا کے حوالے سے جغرافیائی کشیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ روس نے 2020 میں عالمی شہری ہوابازی تنظیم کی گورننگ کونسل میں اپنی نشست کھو دی تھی اور اب دوبارہ شمولیت کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ شمالی کوریا نے کونسل پر دوہرے معیار کا الزام عائد کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سرد جنگ کے دور میں بھی ایوی ایشن کے تکنیکی امور پر عالمی تعاون جاری رہا تھا تاہم موجودہ حالات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ اجلاس میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور فضائی آلودگی میں کمی کے لیے اقدامات پر بھی بحث جاری ہے۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے تسلیم کیا ہے کہ 2023 تک کاربن کے اخراج میں پانچ فیصد کمی کا ہدف حاصل نہیں ہو سکے گا، تاہم فضائی کمپنیوں نے نیٹ زیرو کے ہدف سے وابستگی کا اعادہ کیا ہے۔
ہوابازی کی صنعت کو افرادی قوت کی شدید قلت کا بھی سامنا ہے۔ عالمی فضائی ٹریفک 2024 تک سالانہ سات ارب سے زائد مسافروں تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے 2043 تک تقریباً چھ لاکھ ستر ہزار نئے پائلٹس درکار ہوں گے۔
برازیل جیسے ممالک خواتین اور اقلیتی گروہوں کی شمولیت بڑھانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ برازیل میں خواتین ملک کی نصف آبادی ہونے کے باوجود پائلٹس کی مجموعی تعداد کا صرف تین فیصد ہیں۔
واضع رہے کہ اجلاس کے نتائج اور سفارشات کی روشنی میں متوقع ہے کہ مختلف ممالک اور فضائی کمپنیاں سائبر سیکیورٹی اور ماحولیاتی پالیسیوں کے حوالے سے اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کریں گی۔ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کا باضابطہ ردعمل اجلاس کے اختتام پر سامنے آنے کی توقع ہے۔






